خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 577

خطابات شوری جلد دوم ۵۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء کا دخل ہے اور جس جنگ میں خدا تعالیٰ کا دخل ہو اُس کا نتیجہ اسلام اور احمدیت کے لئے مصر نہیں ہو سکتا ۔ ابھی میں برابر دعا میں مشغول ہوں اور گو درمیانی واقعات اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیتے ہیں مگر اس جنگ کے آخری نتیجہ اور انجام کے متعلق ابھی وضاحت سے علم نہیں ہوا۔ دوستوں کو چاہئے کہ و کہ وہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان مصیبت سے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی اپنے بندوں کو بچالے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر اس جنگ میں جرمنی کو شکست جرمنی تبلیغ کا بہترین مقام ہوئی تو اس کی لالی کا بہترین مقام جرمنی ہوگا۔ جرمن قوم تین سو سال سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس غرض کے لئے اس نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں مگر ابھی تک وہ اپنے ارادہ میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔ اگر اس جنگ میں بھی اسے کامیابی حاصل نہ ہوئی تو ہم اسے بتا سکیں گے کہ خدا نے تمہاری ترقی کا کوئی اور ذریعہ مقرر کیا ہوا ہے جو سوائے اس کے کچھ نہیں کہ تم خدا کے دین میں داخل ہو جاؤ۔ اور بِحَبْلٍ مِّنَ الله هلا ترقی کر جاؤ۔ پھر تمہیں دنیا میں کوئی مغلوب نہیں کر سکے گا۔ پس میں سمجھتا ہوں جرمن قوم کا اس شکست میں دینی لحاظ سے بہت بڑا فائدہ ہے اور عنقریب تبلیغ کے لئے ہمیں ایک ایسا میدان میسر آنے والا ہے جہاں کے رہنے والے باتیں نہیں کرتے بلکہ کام کرتے ہیں اور زبانی دعوے نہیں کرتے بلکہ عملی رنگ میں قربانیاں کر کے دکھاتے ہیں ۔ رات دعاؤں کی تحریک بہر حال یہ دن بہت ناز نازک ہیں دوستوں کو چاہئے کہ وہ دن دعائیں کریں اور نہ صرف خود دعائیں کریں بلکہ دوسروں کو بھی دعاؤں کی تحریک کریں یہاں تک کہ ہر شخص دعائے مجسم بن جائے ۔ اگر ایسا ہو جائے تو دنیا کی کسی طاقت سے تمہیں خطرہ نہیں ہو سکتا ۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت اسلام اور احمدیت کے لئے خطرہ پیدا ہوا تو اس کی وجہ صرف یہی ہوگی کہ ہماری طرف سے دعاؤں میں کوتاہی ہوئی ہوگی ۔ یہ وجہ نہیں ہوگی کہ جرمن طاقتور ہیں یا کوئی اور قوم زیادہ ساز و سامان رکھتی ہے۔ پس اپنے آپ کو بدنامی سے بچانے اور اسلام اور احمدیت کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ صرف یہی ہے کہ ہم دن رات دعاؤں میں لگے رہیں ۔ ورنہ ہم ننگے ہو جائیں گے اور