خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 571

خطابات شوری جلد دوم ۵۷۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء اور کی بہادری اور کامیابی کے قصے بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح جرمنی کے غلبہ اور رعب کے پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں جو نہایت ہی نقصاں رساں ہے۔ وہ نادان لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ ان باتوں کا نتیجہ ہے کہ بھرتی بند ہو جاتی ہے اور لوگوں میں بزدلی دون ہمتی پیدا ہو جا ہو جاتی ہے ۔ جب لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ کسی ایسی طاقتو رقوم سے ان کا مقابلہ ہے جو اپنے دشمن کو مارتی چلی جاتی ہے اور جو بھی اُس کے سامنے آئے اُسے فنا کر دیتی ہے تو اس کی ہمتیں پست ہو جاتی ہیں اور مقابلہ کی طاقت کو وہ بالکل کھو بیٹھتی ہے۔ پس اِن دنوں ایسی باتیں کرنا جن سے جرمنوں کو تقویت پہنچ سکتی ہو سخت ظلم ہے۔ اپنے ملک پر ظلم ہے، اپنی قوم پر ظلم ہے اور اُن لاکھوں انسانوں پر ظلم ہے جو میدان جنگ میں گئے ہوئے ہیں ، اگر ہم اپنے ملک کے لوگوں کے دلوں میں اس قسم کے زہر یلے خیالات بھر کر میدانِ جنگ میں بھیجتے ہیں ، اگر ہم انہیں صبح و شام یہ سناتے رہتے ہیں کہ تمہارا مقابلہ ایک بہت بڑے دیو سے ہوگا جو آنِ واحد میں تمہیں کچل ڈالے گا تو یقیناً ہم ان لوگوں کو مفلوج کر کے میدان جنگ میں بھیجتے ہیں اور وہ کبھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے ۔ دُنیا میں تلوار نہیں بلکہ رُعب کام کرتا ہے۔ یاد رکھ دنیا میں بھی تلوار کام نہیں کرتی ۔ بلکہ رعب کام کیا کرتا ہے۔ جرمنی کی اس وقت تک کی تمام ترقیات اور کامیابیوں کی وجہ یہی ہے کہ اس کا رُعب دلوں پر بیٹھتا چلا جا رہا ہے اور لوگ پہلے ہی یہ خیال کر کے سہم جاتے ہیں کہ نہ معلوم مقابلہ میں ہمارا کیا حشر ہو۔ اگر آج کسی قوم کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ جرمن آخر انسان ہیں اور وہ کوئی غیر معمولی طاقتیں لے کر نہیں آئے ، ہم ان کا مقابلہ کر سکتے اور انہیں میدان سے بھگا سکتے ہیں تو یقیناً بز دل سے بزدل قوم بھی جرمن کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ پس یہ سخت بے وقوفی کی بات ہے کہ اپنے ملک کے لوگوں میں جرمنی کا رُعب قائم کیا جائے اور جھوٹی سچی خبریں ایک دوسرے کو سنا کر اُنہیں بُزدل اور دون ہمت بنایا جائے۔ اگر لوگوں کے دلوں میں یہ خیالات پیدا کئے جائیں کہ جرمنی کی کیا طاقت ہے کہ وہ ہمارا مقابلہ کر سکے۔ وہ دن رات شرابیں پینے والے لوگ ہیں وہ اگر مسلمانوں کے مقابلہ میں آئیں تو میدان سے بھاگنے کے سوا اُن کے لئے کوئی چارہ نہ رہے تو یقیناً لڑائی کا نقشہ پلٹ جائے اور لوگ تھوڑے