خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 560
خطابات شوری جلد دوم ۵۶۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء حالت کا صحیح اندازہ لگا سکیں گے اور میں سمجھتا ہوں جماعت اس طرح زیادہ بیدار ہو جائے گی اور وہ اپنے فرائض کو زیادہ تندہی کے ساتھ ادا کرے گی ۔ غرض اگر انفرادی طور پر جماعتوں کی طرف توجہ کی جائے تو ان کی حالت بہت جلد سُدھر سکتی ہے۔ سب کی طرف یکساں توجہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ملیریا کے موسم میں سب کو کو نین دے دی جائے حالانکہ بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جن کے لئے کونین مفید نہیں ہوتی۔ اسی طرح بعض جماعتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی عام لیکچروں لیکچروں یا یا وعظ و نصیحت سے اصلاح نہیں ہوتی بلکہ اُس وقت اصلاح ہونا ہوتی ہے جب خاص طور پر ان کو مدنظر رکھ کر ان کی اصلاح کی تدابیر اختیار کی جائیں ۔ پھر فرداً فرداً بھی انسان کی حالت روزانہ بدلتی رہتی ہے اور جو تد بیر کسی کی اصلاح کے لئے آج مفید ہو سکتی ہے بالکل ممکن ہے وہ کل مفید نہ رہے۔ بہر حال اگر اس رنگ میں نظارتیں کوشش کریں تو نتیجہ زیادہ اعلیٰ پیدا ہو سکتا ہے۔ شست افراد کی اصلاح کا طریق ایک دوست نے بجٹ پر بحث کے دوران میں افراد کا طریق لالی یا اب بھی کیا ایک تجویز یہ پیش کی تھی کہ جو دوست چندہ دینے میں سست ہیں ان کو الگ کر کے جماعتوں کا بجٹ تجویز ہونا چاہئے ۔ اُن کی اس بات کا ناظر صاحب بیت المال نے بھی جواب دیا ہے مگر میں سمجھتا ہوں یہ بات ایسی ہے کہ جس کے متعلق مجھے بھی کچھ کہنا چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قسم کی اجازت دی جائے اور جماعتوں کو یہ کہا جائے کہ وہ سُست لوگوں کے نام اپنی جماعت میں شمار نہ کیا کریں اور ان کو مستی کر کے بجٹ تجویز کیا جائے تو یہ چیز قوم کے لئے خودکشی کے مترادف ہوگی ۔ اگر ہر وہ شخص جو جماعتوں کو کمزور دکھائی دے اُس کا نام کاٹنے کی انہیں اجازت ہو تو آج اگر ایک سست ہے تو کل دوست ہو جائیں گے، پرسوں تین سست ہو جائیں گے اور اترسوں چار ہے تو ہو جا سست ہو جائیں گے ۔ اس صورت میں تو ان کا بجٹ اگر آج چار سو روپیہ کا ہے تو اگلے سال ساڑھے تین سو روپیہ کا رہ جائے گا اور اس سے اگلے سال تین سو کا کیونکہ ہر دفعہ وہ کہیں گے کہ اتنے آدمی چونکہ اور سست ہو گئے ہیں اس لئے اب کی دفعہ ہم نے ان کو بھی شامل نہیں کیا۔ پھر سوال یہ ہے کہ اگر کمزور لوگوں کو الگ کر کے وہ چندہ بھجواتے ہیں تو اس میں ان کی خوبی کونسی ہے۔ یہ تو مفت کی نیک نامی حاصل کرنے والی بات ہے جو دیتا ہے وہ