خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 41
خطابات شوری جلد دوم ۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کے افسروں کو تبلیغ کرنے لگ گیا جن میں سے بعض احمدیت کے قریب آ گئے ۔ اس پر علماء نے فتوی دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے لیکن حکومت نے کہا یہ انگریزی رعایا ہے، اس کے قتل کرنے سے کوئی اُلجھن نہ پیدا ہو جائے ۔ آخر اسے افغانستان سے نکال دیا گیا۔ وہ یہاں آ گیا ۔ اب پھر وہ کسی اور ملک کے لئے چلا گیا ہے۔ اسی طرح اور کئی ایک نے ایسا ہی کیا ہے۔ وہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ کلکتہ تک پیدل گیا وہ جالندھر سے روانہ ہوا اور کلکتہ پہنچ کر آگے سٹریٹ سیٹلمنٹ کے لئے روانہ ہو گیا۔ ا ہو گیا ۔ اور دس کے قریب ایسے لڑکے ہیں جو ان کے علاوہ ہیں ۔ جن میں سے ؟ بعض کی قلیل مدد کی گئی اور بعض کو کوئی مدد نہیں دی گئی ۔ تو جماعتیں اپنے نو جوانوں کو بتائیں کہ گھروں میں بیکار بیٹھے رہنے کی بجائے پاؤنیر (PIONEER) بنو اور باہر جا کر کام کرو۔ اس طرح خود بھی فائدہ اٹھاؤ اور سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔ تبلیغی جلسوں کا سلسلہ بڑھائیں چوتھی بات یہ ہے کہ تبلیغی جلسوں کا سلسلہ بڑھا ئیں مگر یہ نہیں کہ جماعتیں کہیں مرکز سے مبلغ بھیجے جائیں بلکہ جہاں جلسہ کرنا ہو وہاں کے ارد گرد کے لوگ بُلا لئے جائیں اور اُن سے تقریریں کرائیں ۔ تبلیغ کے سلسلہ میں مبلغوں کا خیال ہی جانے دو اور خود تبلیغ کرو۔ اپنے اندر تبلیغ کرنے کا ملکہ پیدا کرو۔ مبلغوں کی وجہ سے کام بہت محدود ہو گیا ہے کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ جب کوئی مبلغ آئے گا تو تبلیغ کرے گا، یہ سمجھ کر خود کچھ نہیں کیا جاتا۔ پس احباب تبلیغی جلسے کریں اور کثرت سے کریں اور کوئی جماعت ایسی نہ ہو جو مہینہ میں دو یا کم از کم ایک جلسہ نہ کرے۔ اگر کوئی سننے کے لئے نہ آئے تو بھی جلسہ کیا جائے ۔ حافظ روشن علی صاحب مرحوم کا ایک لطیفہ مجھے بہت پیارا لگتا ہے۔ وہ ایک دفعہ مدراس گئے جہاں ایک مقام پر رات کو جلسہ کیا گیا تا کہ لوگ سننے کے لئے آسکیں کیونکہ اُن دنوں وہ لوگ دن کو دھان کی فلائی کا کام کرنے میں مصروف رہتے تھے ، رات کو کچھ لوگ آگئے اور حافظ صاحب نے تقریر شروع کی مگر دورانِ تقریر میں سب سو گئے ۔ اور حافظ صاحب برابر تقریر کرتے رہے آخر ساری تقریر کر کے اُنہوں نے کہا اے زمین و آسمان ! تو گواہ رہ کہ میں نے خدا کا پیغام یہاں پہنچا دیا اور یہ کہہ کر لوگوں سے کہا اب اُٹھ بیٹھو تقریر ختم ہو گئی ہے۔ پس اگر کوئی انسان نہ سنے تو ہوا کو سنا دو اور زمین و آسمان کو گواہ بنالو۔ جب تم میں سنانے کی ایسی لگن پیدا ہو جائے گی تو