خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 540
خطابات شوری جلد دوم ۵۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء میں یہ تو نہیں کہتا کہ جو کاغذ اس وقت الفضل کو لگایا جاتا ہے وہ بہت اچھا ہے یا اس میں ترقی کی گنجائش باقی نہیں لیکن اس بات کو بھی اُس وقت تک صحیح نہیں مان سکتا جب تک عملاً اسے درست ثابت کر کے دکھا نہ دیا جائے کہ یہ ایک پیسہ قیمت کا اخبار ہے اور ایک پیسہ سے زیادہ نہیں پکنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جو اخبار ایک پیسہ میں فروخت ہو وہ اول تو دمڑی نہیں تو کم سے کم و سے تم دھیلہ میں تو ضرور تیار ہونا چاہئے ۔ جو پرچہ دہلی اور کلکتہ میں جا کر ایک پیسہ میں پکنا ہو وہ دمڑی یا زیادہ سے زیادہ دھیلہ میں تیار ہو تو تبھی پک سکتا ہے ورنہ نہیں۔ پس وہ دوست اس اخبار کو اول تو دمڑی نہیں تو دھیلہ میں تیار کرا دیں۔ میں انتظام ان کے ہاتھ میں دینے کو تیار ہوں وہ آئیں اور تیار کر کے دکھا دیں۔ میں ذمہ دار ہوں کہ ان کو آزادی کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جائے گا اور ان کی تجاویز کو منظور کر لیا جائے گا۔ لیکن اگر اتنا سستا وہ تیار نہ کراسکیں یا اگر پیسہ میں تیار کرائیں تو پھر بھی زیادہ نہیں تو دہلی اور کلکتہ وغیرہ شہروں میں دو پیسہ میں تو ضرور ہی بیچنا ہوگا اور اس صورت میں پھر ان پر بھی یہی اعتراض کیا جا سکے گا کہ پیسہ کا اخبار دو پیسہ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ وہ اس اعتراض میں اُسی صورت میں حق بجانب ہو سکتے ہیں کہ دمڑی یا دھیلہ میں اخبار تیار کر کے دکھا دیں تا وہ پیسہ میں فروخت ہو سکے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو اخبار نویسی کا بہت پرانا تجربہ ہے مگر میں نے بھی یہ کام کیا ہے اور خود ایڈیٹر رہا ہوں اور میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اُنگلیوں پر ہی ایسے حساب کر سکتا ہوں ۔ میرا اندازہ یہی ہے کہ کاغذ کی موجودہ قیمت ، طباعت اور اخراجات کے پیش نظر وہ ڈیڑھ پیسہ میں تیار نہیں ہو سکتا۔ پھر پوسٹیج ، ریل کا محصول ، ایجنٹوں کا کمیشن اور ملازموں کی تنخواہ وغیرہ اس سے علاوہ ہیں ۔ ایک اور اعتراض خبروں پر کیا گیا ہے کہ وہ بہت پرانی ہوتی ہیں اور کہا گیا ہے کہ کیوں تازہ خبریں نہیں مل سکتیں؟ میں تو یہ بات سمجھ بھی نہیں سکتا کہ تازہ خبریں نہ مل سکنے کا خیال بھی کیسے کیا جا سکتا ہے۔ رائٹر ایجنسی یا کسی اور خبر رساں ایجنسی کو تین چار سو روپیہ ماہوار دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ خبریں نہ مل سکیں ۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ ایجنسیاں اپنی اُجرت لے کر خبریں مہیا کرنے کو تیار ہیں ، الفضل اتنا روپیہ دینے کو تیار ہے مگر ڈاکخانہ کہتا ہے کہ ہم ینے تو تیار ہے مردا رات کو تار تقسیم نہیں کر سکتے اور جو تار آئیں وہ اگر رات کو نہ مل سکیں تو چار سو روپیہ خواہ مخواہ