خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 534
خطابات شوری جلد دوم ۵۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء دوسری چیزیں جن کی شناعت ان سے بہت کم ہے یہ خیال کرنا کہ ان میں کوئی فائدہ نہیں بالکل غلط ہے ۔ جو باتیں ہر رنگ میں مصر ہیں اُن کو شریعت نے حرام کر دیا ہے۔ جو درمیانی حالت میں ہیں وہ ہر رنگ میں حلال نہیں اور ہر رنگ میں حرام بھی نہیں اور ان کے متعلق اصول یہی ہے کہ قومی حالات کے مطابق ان کے متعلق فیصلہ کر لیا جائے ۔ مثلاً گوشت اور سبزیاں وغیرہ ہیں مگر کبھی طبیب کسی کو گوشت کھانے سے یا شلغم یا کوئی سبزی کھانے سے منع کر دیتا ہے اب یہ چیزیں اسکے لئے حرام تو نہیں مگر چونکہ اس کی حالت کے لحاظ سے اس کے لئے ان کی مضرتیں فوائد سے بڑھ گئی ہیں اس لئے اسے انکا استعمال کرنے سے روک دیا جاتا ہے ۔ اب اگر کوئی ایسے شخص کو سامنے رکھ کر اسلامی نقطۂ نگاہ کے پیش نظر اس سوال پر بحث شروع کر دے کہ گوشت مفید ہے یا مضر تو وہ نادان ہوگا کیونکہ یہ تو اس کے خاص حالات کی وجہ سے تھا اسی طرح یہ سوال بھی وقتی حیثیت رکھتا ہے ۔ ایک بات رہ گئی ہے جو اصل بحث سے متعلق ہے اور وہ یہ کہ اس زمانہ میں لڑکے زیادہ اور لڑکیاں کم ہیں اور اگر یہ درست ہو تو غیر احمدی لڑکیاں لینا حسب حالات جائز رکھنا چاہئے ۔ ناظر صاحب امور عامہ کی تحقیقات یہی ہے اور گورنمنٹ کی تحقیقات بھی یہی ہے کہ پنجاب میں لڑکے، لڑکیوں کی نسبت زیادہ ہیں، اگر سولر کے ہیں تو ۹۶ یا ۹۸ لڑکیاں ہیں۔ بعض قوموں میں یہ نسبت کم و بیش ہے مگر بحیثیت مجموعی فرق ضرور ہے۔ اسی نسبت کے لحاظ سے ہمارے ہاں بھی لڑکے زیادہ ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ۔ معروف خاندانوں میں بھی لڑکے زیادہ اور لڑکیاں کم ہیں۔ ہمارے اپنے خاندان میں میرے ۳ الڑکے اور لڑکیاں ہیں ۔ مرزا شریف احمد صاحب کے بھی لڑکے زیادہ ہیں اور پھر آگے ہماری اولادوں میں بھی نسبت قریباً برابر ہے مگر ابھی ان کے ایک ایک دو دو بچے ہیں اس لئے صحیح قیاس نہیں کیا جاسکتا مگر سارے ملک میں عام حالات یہی ہیں کہ لڑکے زیادہ ہیں اور لڑکیاں کم ہیں اور اس نقطۂ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو ہمیں یہی فیصلہ کرنا چاہئے کہ باہر سے لڑکیاں لائیں ورنہ ہمارے لڑکے کنوارے رہیں گے اور ان کے اخلاق گر جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو شہوانی جذبات پیدا کئے ہیں ان کو دبانا شاذ حالات میں ہی مفید ہو سکتا ہے ورنہ عام طور پر مصر ہی ہوتا ہے اس دریا کے بہاؤ کو روکنا مناسب نہیں ۔ اس لحاظ سے