خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 508
خطابات شوری جلد دوم ۵۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء پرواز کر سکتے ہو بلکہ اگر چاہو تو صحابہؓ سے بھی آگے نکل سکتے ہو۔ اتنی عظیم الشان نعمت کے موجود ہوتے ہوئے اگر ہم مستی سے کام لیں اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی کریں تو ہماری بد قسمتی میں کیا شبہ ہو سکتا ہے ۔ ایک انتباہ پس اے عزیزو ! ان باتوں کو یاد رکھو ۔ خدا نے تمہاری ترقیات کے دروازے کھول رکھے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فیوض تم تک پہنچانے میں بخل سے کام نہیں لیا۔ اُس نے تم پر وہ عظیم الشان احسان کیا ہے جس کا بدلہ تم اُتارنے کی قطعاً ہمت نہیں رکھتے ۔ مگر وہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن کے تم پر اس قدر احسانات ہیں اگر میں حقیقت کو ننگے الفاظ میں بیان کروں تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مثالی طور پر وہ ہمارا حسن ، وہ سب دنیا کا محسن اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک مظلوم فریادی کے طور پر کھڑا ہے اور اس کی فریاد کو پہنچانے کا کام اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے۔ اب تمہارا یہ کام ہے کہ تم اس عظیم الشان محسن کے نام کو دنیا کے کونوں تک پہنچاؤ اور اُس کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی قربانیوں میں حصہ لو۔ اگر تم اس عظیم الشان کام کی سرانجام دہی میں سستی سے کام لو گے تو تم خدا تعالیٰ کے بہت بڑے الزام کے نیچے آؤ گے۔ اتنے بڑے الزام اور اتنی بڑی سزا کے نیچے کہ دل اُس کے تصور سے کانپ جاتا ہے۔ پس آؤ ہم خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا اجزانہ دعا کریں اور اس سے سے کہیں کہ اے خدا ! ہم پر رحم کر، رحم کر، رحم کر اور اُس عذاب سے بچا جو ہمیں تیرے سامنے اور تمام اولین و آخرین کے سامنے شرمندہ کرنے والا ہو اور اپنا فضل نازل کر کے ہم مردہ روحوں کو زندگی بخش اور ہمیں اپنے فرائض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرما تا کہ ہم کہہ سکیں کہ ہم نے وہ فرض ادا کر دیا جو تیری طرف سے ہم پر عائد کیا گیا تھا اور ہم پہلی اُمتوں کے سامنے بھی فخر کے ساتھ اپنی گردن اونچی کر کے کہہ سکیں کہ جو فرض خدا اور اس کے رسول نے ہمارے ذمہ لگایا تھا ہم نے اسے پورا کر دیا۔ پس آؤ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعائیں کرتے اور اُس سے اُس کا فضل اور رحم مانگتے ہوئے اس نیت اور اس ارادہ کے ساتھ اپنے گھروں کو رخصت ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں نیکی اور تقویٰ پھیلانے کا ذریعہ بنائے اور ہم سے وہ کام لے جس سے ہمیں اس کی