خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 501

خطابات شوری جلد دوم ۵۰۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء ہماری جماعت کے دوستوں میں کسل پیدا ہو گیا ہے اور وہ خیال کرنے لگ گئے ہیں کہ اب انہیں آرام کرنا چاہئے حالانکہ جہاں انسان کو آرام کا خیال آیا وہیں انسان کو یہ خیال کر لینا چاہئے کہ اب اس کے ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ میرے پاس ایک دفعہ ایک اباحتی قسم کا آدمی آیا اور کہنے لگا اگر انسان دریا میں کشتی پر سوار ہو اور وہ اپنے دوست سے ملنے جا رہا ہو تو آپ بتائیں کہ جب کنارہ آ جائے تو آیا وہ اتر پڑے یا کشتی میں ہی بیٹھا رہے؟ جو نہی اس نے سوال کیا معا میں سمجھ گیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز اور روزہ وغیرہ تو اس لئے ہیں کہ انسان کو خدا مل جائے پس اگر کسی کو خدامل جائے تو اُسے نماز اور روزہ کی کیا ضرورت ہے مگر اُس نے خیال کیا کہ اُس کا یہ مفہوم میں کہاں سمجھوں گا اور میں اسے یہی جواب دوں گا کہ جب کنارہ آئے تو اُتر پڑے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس کی حقیقت کھول دی اور میں نے بجائے یہ جواب دینے کے کہ جب کنارہ آئے تو وہ کشتی سے اُتر پڑے، یہ جواب دیا کہ اگر تو جس دریا میں وہ سفر کر رہا ہے اس کا کوئی کنارہ ہے تو جب کنارہ آ جائے تو بیشک اُتر پڑے۔ لیکن اگر اس دریا کا کوئی کنارہ نہیں تو جہاں اسے کنارے کا خیال آیا اور وہ بہ یا اور وہ یہ سمجھ کر کشتی سے اُترا کہ کنارہ آ گیا ہے وہیں وہ ڈوبا۔ یہ جواب دے کر میں نے کہا اب بولو تم جس دریا کا ذکر کر رہے؟ اُس کا کوئی کنارہ ہے یا نہیں ؟ وہ کہنے لگا ہے تو وہ بے کنارہ ہی۔ تو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود ہستی ہے اور غیر محدود ہستی کا عرفان اسی صورت میں انسان کو حاصل ہو سکتا ہے جب وہ بھی اپنا قدم آگے سے آگے بڑھاتا چلا جائے ۔ اگر ہم ایک ہی مقام پر ٹھہرے رہیں تو غیر محدود ہستی کا غیر محدو د قرب ہم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں ۔ اور : ں۔ اور جب ہم اس کا قرب حاصل نہیں کریں گے تو اس کے انعامات سے محروم رہیں گے۔ اور جتنا زیادہ ہم اس کے انعامات سے محروم رہیں گے اُسی قدر زیادہ ہمیں ناکامی و نامرادی ہو گی ۔ روحانی انعامات میں پہلوں سے آگے بڑھنے کی تلقین پیس ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وسعت اور اپنے کام کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے رات دن یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہمیں اُس کے فضلوں سے زیادہ سے زیادہ حصہ ملے ۔ نہ صرف اُسی قدر جو پہلی جماعتوں کو ملا بلکہ ان سے بھی بڑھ