خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 477

خطابات شوری جلد دوم ۴۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء یہ اس طرح پوری ہو سکتی ہے کہ جلسہ سالانہ اور مجلس شوری کے موقع پر کچھ صندوقچیاں بنوالی جائیں اور ہر دوست سے کہا جائے کہ وہ ان میں ایک ایک پیسہ ڈالتا جائے مگر یہ انہیں غلطی لگی ہے، یہ کمی تبلیغی اخراجات میں نہیں کی گئی بلکہ وظائف کی وصولی کی مد میں یہ کمی اس خیال سے کی گئی ہے کہ اتنی آمد نہیں ہوگی ۔ باقی جو ان کی اصل تجویز ہے وہ اس موقع پر نہیں بلکہ بجٹ پر عام بحث کے دوران میں انہیں پیش کرنی چاہئے تھی مگر وہ چونکہ ہمارے طریق کار سے ابھی ناواقف ہیں اس لئے ان سے یہ غلطی ہوگئی لیکن بہر حال اُنہوں نے جو تجویز بیا ی بیان کی ہے میرے خیال میں اگر دعوۃ و تبلیغ والے اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیں تو اُٹھا سکتے ہیں ۔ جلسہ سالانہ پر چندہ کی وصولی گزشتہ سالوں میں جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی * لوگوں سے چندہ وصول کیا جاتا تھا مگر جب چندہ کی وصولی کا طریق زیادہ منظم ہو گیا تو لوگوں کے یہاں آنے سے پہلے ہی چندہ وصول ہونے لگا اور اس طریق کو چھوڑ دیا گیا مگر جو تبلیغی چندہ ہے اور نشر واشاعت کے کام پر صرف کیا جاتا ہے اور جو زیادہ سے زیادہ چار پانچ ہزار روپیہ ہوتا ہے، اگر دعوۃ و تبلیغ والے کوئی ایسا ہی انتظام کریں تو اس چندہ کی وصولی میں انہیں بہت کچھ مدد مل سکتی ہے۔ چاہے اسی رنگ میں کریں جس رنگ میں پنڈت عبداللہ بن سلام صاحب نے تجویز پیش کی ہے کہ صندوقچیوں کے ذریعہ لوگوں سے پیسہ پیسہ وصول کیا جائے اور چاہے وہ مبلّغین اور جماعت کے نوجوانوں کو تحریک کریں کہ وہ بطور والنٹیئر مختلف جماعتوں میں پھر کر اس غرض کے لئے چندہ وصول کریں ۔ اس طرح بآسانی وہ چندہ جمع ہو جائے گا جو خطوط اور لفافوں کے ذریعہ لکھ لکھ کر وصول ہونا مشکل ہوتا ہے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر عام طور پر بیس پچیس ہزار آدمی جمع ہوتے ہیں ۔ پس اگر مردوں اور عورتوں دونوں میں منظم طور پر تحریک کی جائے تو تین چار ہزار روپیہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں جمع ہونا کوئی مشکل امر نہیں اور اس طرح تبلیغی لٹریچر کی و تبلیغ اس اشاعت میں جو بعض دفعہ روکیں حائل ہو جاتی ہیں وہ دور ہو سکتی ہیں۔ بہر حال محکمہ دعوت اس سے فائدہ اُٹھا رہ اُٹھا سکتا ہے ۔ چاہے اسی طرح کر دے کہ وہ مختلف مقامات پر بکس لگا دے مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں کو یہ عادت نہیں کہ وہ اس قسم کے بکسوں میں کچھ ڈال دیا کریں ۔ بعض قوموں کو اس کی عادت ہوتی ہے اور وہ آسانی سے اس رنگ میں