خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 459

خطابات شوری جلد دوم ۴۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء اس پر ۳۴۶ ر ا حباب کھڑے ہوئے ۔ پھر حضور نے فرمایا :- را جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ اِسے جائداد قرار دیا جائے وہ کھڑے ہو دو جائیں ۔ اس پر صرف پانچ احباب کھڑے ہوئے ۔ حضور نے فرمایا :- فیصلہ میں کمر دو 66 میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں ۔“ اس کے متعلق دوسری تجویز یہ ہے کہ جس وقت کوئی موصی اپنی پنشن کا کوئی حصہ کمپیوٹ کرائے اس سے اُسی وقت حصہ آمد لے لیا جائے ۔ جو دوست اس کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ فرمایا :- اس پر ۳۹۳ / احباب کھڑے ہوئے۔ اور اس کے خلاف صرف تین ۔ حضور نے دو سے جو روپیہ فیصلہ ” میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں ۔ یعنی یہ کہ کمپیوٹیشن فیصلہ حاصل ہو اس سے حاصل ہو اس کا حصہ آمد اُسی وقت لے لیا جائے ۔ مگر اس استثنیٰ کے ساتھ کہ بعض صورتیں ایسی ہو سکتی ہیں کہ کمیوٹیشن کا حصہ فوری طور پر لے لینے سے موصی کو نقصان ہوتا ہے مثلاً کسی موصی نے دو ہزار روپیہ کمیوٹیشن کے ذریعہ حاصل کیا ہے اور اس پر اتنی ہی رقم کی کوئی ڈگری ہے اب اگر اس سے دوسو رو پید انجمن لے لے تو اسے یہ نقصان پہنچ سکتا ہے کہ اس کی یہ ڈگری ادا نہ ہو سکے گی ۔ اس صورت میں وہ انجمن سے کوئی سمجھوتہ کر سکتا ہے اور یہ رقم اپنے اوپر بطور قرض تسلیم کر کے اس کی ادائیگی کے متعلق کوئی تصفیہ انجمن سے کر سکتا ہے۔ اس صورت میں جو بھی سمجھوتہ ہو وہ اس پر عمل کرے۔“ یہ تجویز تجویز پراویڈنٹ فنڈ اور پیشی و صرافی احمدی پیش ہوئی کہ آئندہ کارکنان صدر انجمن احمد یہ کے متعلق یہ قاعدہ بنایا جائے کہ جو لوگ تمھیں روپیہ ماہوار تک گزارہ پاتے ہیں اُنہیں تو یہ بنایا جو ارہ " پراویڈنٹ فنڈ ملے اور جو اس سے زیادہ گزارہ پانے والے ہیں اُنہیں اختیار دیا جائے کہ