خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 439
خطابات شوری جلد دوم ۴۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء اخلاص مد نظر رکھنا چاہئے تا ہمیں خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو۔ بے شک یہ بات دُنیا کے اصول کے خلاف ہے مگر ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے کہ دنیا رکن اصول کی مخالف ہے کیونکہ فتح خدا کی طرف سے آیا کرتی ہے اور خدا اُنہی اصول کی پابندی کو پسند کرتا ہے جو اُس نے خود ہمارے لئے مقرر کئے ہیں ۔ آج کا ایجنڈا دوستوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس ایجنڈا میں شامل کرنے کے لئے ایک اور تجویز میں نے بھی آج لکھ کر دی ہے جو ناظر صاحب اعلیٰ نے نظارت بیت المال کے سپرد کی ہے۔ میں اس تجویز کو بھی سنا دیتا ہوں تا دوست یہ سمجھ لیں کہ یہ تجویز بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ تجویز یہ ہے کہ :- آئندہ کارکنان صدرانجمن احمد یہ کے متعلق یہ قاعدہ بنایا جائے کہ جو لوگ تمہیں روپیہ ماہوار تک گزارہ پاتے ہیں ، انہیں تو پراویڈنٹ فنڈ ملے اور جو اس سے زیادہ گزارہ پانے والے ہیں انہیں اختیار دیا جائے کہ خواہ وہ پراویڈنٹ فنڈ کے طریق کو اپنے لئے پسند کریں خواہ پنشن کے طریق کو۔ پنشن چالیس فیصدی ملے ۔ اس تبدیلی کی صورت میں بھی ہر کا رکن کو جو پنشن لینا چاہے اپنا حصہ پراویڈنٹ فنڈ کا جمع کراتے رہنا پڑے گا جو اُسے اکٹھا پنشن کے وقت منافع سمیت مل جائے گا ۔ صدر انجمن احمد یہ بھی اپنا حصہ پہلے کی طرح ادا کرتی رہے گی اور اسی میں سے پنشن ادا کرے گی ۔“ اسی طرح نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے ایک تجویز احمد یہ یونیورسٹی کے متعلق ہے جو ایجنڈا میں درج ہونے سے رہ گئی ہے۔ اب دوست سب کمیٹیوں کے متعلق مناسب آدمیوں کے نام لکھاتے چلے جائیں، میں بعد میں ممبران کا اعلان کر دوں گا ۔“ دوسرا دن مجلس کے روز ۲۳ مارچ مکرم ناظر صاحب اعلیٰ کی رپورٹ پر تبصرہ مشاورت کے دوسرے روز سالی ماری ۱۹۴۰ء کو مکرم ناظر صاحب اعلیٰ نے