خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 369
خطابات شوری جلد دوم ۳۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء نہیں کیا بلکہ ایک دوسرے شخص نے جسے وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا احمدیت کے جھنڈے کو پکڑ کر آگے بڑھنا شروع کر دیا اور مشرقی شہر کا شعر میں پہنچ گیا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کے ایک دوست کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمادی۔ حاجی جنود اللہ صاحب اُن کا نام ہے۔ وہ اسی تبلیغ کے نتیجہ میں قادیان آئے اور تحقیق کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے ۔ پھر کچھ عرصہ بعد حاجی جنود اللہ صاحب کی والدہ اور ہمشیرہ بھی احمدی ہو گئیں اور اب تو وہ قادیان ہی آئے ہوئے ہیں۔ تو عدالت خاں کی قربانی رائیگاں نہیں گئی بلکہ احمدیت کو اس علاقہ میں پھیلانے کا موجب بن گئی ۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس میں احمدیت کی اشاعت کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ایسے ایسے خطرناک اور دشوار گزار رہتے ہیں کہ اُن کو عبور کرنا ہی بڑی ہمت کا کام ہے۔ حاجی جنود اللہ صاحب کی والدہ نے بتایا کہ رستہ میں ایک مقام پر وہ تین دن تک برف پر گھٹنوں کے بل چلتی رہیں۔ ایسے سخت رستوں کو عبور کر کے ہماری جماعت کے ایک نوجوان کا اُس علاقہ میں پہنچنا اور لوگوں کو تبلیغ کرنا بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔ تو تحریک جدید کے ما تحت اللہ تعالیٰ نے عدالت خاں کو پہلے یہ توفیق دی کہ وہ افغانستان جائے چنانچہ وہ افغانستان میں کچھ عرصہ رہا اور جب وہ واپس آیا تو میری تحریک پر وہ چین کے لئے روانہ ہو گیا اور خود ہی ایک اور نوجوان کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ راستہ میں عدالت خاں کو خدا تعالیٰ نے شہادت کی موت دے دی مگر اُس کے دوسرے ساتھی کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ آگے بڑھے اور مشرقی ترکستان میں جماعت احمد یہ ق احمد یہ قائم کر دے۔ یہ دو واقعات شہادت بتاتے ہیں کہ گو یہ اپنی جدو جہد میں کامیاب نہیں ہوئے مگر ان کی کوششیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول تھیں ۔ چنانچہ ان دو آدمیوں میں سے ایک کو تو اللہ تعالیٰ نے عملی رنگ میں شہادت دے دی اور دوسرے کی وفات ایسے رنگ میں ہوئی جو شہادت کے ہمرنگ ہے۔ اب جو نیا گروہ تیار ہو رہا ہے اسے دینی تعلیم دلوائی جا رہی ہے۔ جب یہ تعلیم مکمل ہو جائے گی تو بعض بیرونی ممالک میں انہیں دنیوی تعلیم دلائی جائے گی کیونکہ جیسا که گذشته مجلس مشاورت کے موقع پر میں نے بیان کیا تھا میرا ارادہ ہے کہ ان لوگوں کو اگر ہم گزارے کم دیتے ہیں تو علمی طور پر ہم ان کے اندر اس قدر لیاقت اور قابلیت پیدا کر دیں