خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 337

خطابات شوری جلد دوم ۳۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہی ہیں۔ چنانچہ مولوی ظفر علی صاحب اہلِ حدیث ہیں اور سالک صاحب اور مہر صاحب مدیران انقلاب بھی جہاں تک میں سمجھتا ہوں اہلِ حدیث ہی ہیں، گو بعض دفعہ سیاسی اختلاف ان سے ظاہر ہو جائیں ، تو ہندوستان میں اگر اخباروں کو دیکھو تو اور مدرسوں کو دیکھو تو سب جگہ اہل حدیث ہی نظر آتے ہیں۔ اسی طرح سیاسیات میں حصہ لینے والے بھی زیادہ تر اہل حدیث ہی ہیں ۔ مگر یہ تمام ترقی اُنہوں نے مدرسوں کے ذریعہ کی ۔ اور در حقیقت اگر ہم کسی جگہ مرکز قائم نہ کریں اور تبلیغ یا مباحثہ کے لئے تو چلے جائیں مگر پھر واپس آ جا جائیں تو اس کا اتنا اثر ہرگز نہیں ہو سکتا جتنا اثر ایک مرکز قائم کر کے تبلیغ کرنے کا ہوتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ تبلیغ کے لئے مختلف مقامات میں مرکز قائم کئے جائیں اور مقامی جماعت کے افراد اس کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں ۔ مبلغ کا کام یہ ہو کہ وہ نگرانی کرے اور اپنے لرے اور اپنے اعلیٰ نمونہ سے لوگوں کے دلوں کو احمدیت کی طرف مائل کرے ۔ اس زمانہ میں ممکن ہے بعض مبلغ ایسے بھی ہوں جو لوگوں کے لئے نمونہ نہ ہوں مگر ان کے بُرے نمونہ کا لوگوں کے قلوب پر اتنا گہرا اثر نہیں ہوتا ۔ آجکل لوگ جب کسی کے متعلق کوئی ایسی بات سنیں جو نا مناسب ہو تو جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ وہ کوئی ہمارا خلیفہ ہے مگر ایک زمانہ ایسا آسکتا ہے جب مبلغ بھی نمونہ سمجھے جائیں ۔ پس اگر ابھی سے ان کے اخلاق کا معیار اعلیٰ نہ رکھا گیا تو آئندہ کے لئے لوگوں کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ابتدائے اسلام میں باقاعدہ مبلغین کا طریق نہیں تھا۔ مگر یہ کوئی ضروری نہیں کہ پہلے زمانہ کی ہر بات کی نقل کی جائے۔ زمانہ کے حالات کے مطابق بعض باتوں میں تغیر بھی کرنا پڑتا ہے مگر ہمیں اُن سبقوں کو یاد ضرور رکھنا چاہئے جو اُن کے افعال میں پنہاں تھے۔ وہ اس لئے مبلغ نہیں رکھتے تھے کہ اگر اُنہوں نے کوئی برا نمونہ دکھا یا تو لوگ ان کی نقل کر کے خود بھی ہدایت سے دور جا پڑیں گے۔ مبلغ کیسے ہوں پس اس سبق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں ایسے ہی مبلغ رکھنے چاہئیں جو سبق کو مد نظ نیکی اور تقویٰ کے لحاظ سے لوگوں کے لئے نمونہ ہوں ۔ اب تو ایسے بھی مبلغ ہیں جن کی بعض حرکات کی جب رپورٹ آتی ہے تو شرم سے گردن جھک جاتی ہے۔ ایک دفعہ ایک مبلغ کے متعلق باہر کی کسی جماعت نے رپورٹ کی کہ فجر کی نماز کے وقت سوتا رہتا ہے اور نماز ہی نہیں پڑھتا ایک اور مبلغ نے ایک دفعہ جھوٹ بولا تو ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ