خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 281
خطابات شوری جلد دوم ۲۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء اسے واپس بلا لیا جاتا تھا۔ پھر بعض دفعہ تقرر سے پیشتر بھی مشورہ لے لیا جاتا تھا۔ ان دونوں طریق کی مثالیں احادیث میں ملتی ہیں ۔ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے زمانہ اگرچه میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں ۔ حضرت علیؓ کے زمانہ میں بھی میرا خیال ہے کہ ایسی مثال ہے۔ چہ اس وقت یقینی طور پر یاد پر یاد نہیں ۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ کا زمانہ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت مغیرہ یمن کے گورنر مقرر ہوئے ۔ اُس علاقہ کے لوگوں نے کہا کہ یہ شخص چونکہ ٹیکس سختی سے وصول کرتا ہے اس لئے کوشش کرو کہ یہاں آئے ہی نہیں ۔ ان میں سے ایک شخص بہت ہوشیار تھا۔ اُس نے کہا کہ مجھے ایک لاکھ درہم جمع کر دو تو میں جا کر شکایت کرتا ہوں کہ یہ روپیہ مغیرہ نے رشوت لی ہے۔ وہ شخص حدیث العہد تھا اور جھوٹ کی قباحت کو پوری طرح نہیں سمجھا تھا۔ چنانچہ اس نے وہ روپیہ حضرت عمر کے پیش کیا کہ یہ مغیرہ نے رشوت لی ہے۔ حضرت مغیرہ نہایت سمجھدار اور عقلمند تھے اور صحابہ میں بہت نیک سمجھے جاتے تھے۔ حضرت عمر نے اُن کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نے یہ روپیہ رشوت لیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں لیا ہے مگر ایک لاکھ نہیں دو لاکھ اور وہ میں نے اسی کے پاس جمع کر دیا تھا۔ اس پر وہ شخص گھبرا گیا اور کہا کہ یہ بات بالکل غلط ہے اور اُنہوں نے کوئی رقم دراصل وصول کی ہی نہیں ۔ یہ محض ان کی سختی کی وجہ سے ہم نے سازش کی تھی تا آپ ان کی جگہ دوسرے والی کو بھجوا دیں ۔ اس واقعہ اور بہت سے اور واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت والیوں کو بدلنے کا بھی رواج تھا لیکن انتخاب خود خلیفہ وقت ہی کرتا تھا۔ ہاں ایک امیر اور بھی ہوتے تھے جو لوگوں کے خیالات آکر حکومت کے سامنے پیش کرتے تھے ۔ یہ لوگ بے شک منتخب ہوتے تھے اور قوم انہیں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجتی تھی ۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک وفد آیا اور آپ نے فرمایا کہ آپ لوگ اپنے میں سے ایک امیر منتخب کریں اور وہی بات چیت کرے۔ کے تو ایسے امیر جن کو حکومت کی طرف سے کوئی رتبہ نہیں ملتا تھا بے شک منتخب ہوتے تھے لیکن جن کو حکومت کی طرف سے کوئی رُتبہ ملتا تھا وہ انتخابی نہیں ہوتے تھے، وہ مقرر کئے جاتے تھے۔ ہاں تقرر کے وقت لوگوں کی مرضی کو ضرور مد نظر رکھ لیا جاتا تھا اور اب چونکہ یہ کوئی ایسا عہدہ نہیں کہ جس کی تنخواہ ہو اس لئے اس کی بھی ضرورت نہیں کہ مرکز سے مقرر کر کے بھیجا جائے ، وہیں سے آدمی لینے پڑتے ہیں اور چونکہ ہمیں لوکل حالات کا