خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 225
خطابات شوری جلد دوم ۲۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء اور دیانتداری کے ساتھ کام کرنا چاہئے اور ایجنسی لے کر اس کا روپیہ پوری احتیاط کے ساتھ ادا کرنا چاہئے ۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر سے بیکاری دور کریں اور کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جو کام پر نہ لگا ہوا ہو۔ میں نے اس کی طرف کئی دفعہ اپنے خطبات میں توجہ دلائی ہے لیکن میرے نزدیک اس وقت کوئی جماعت ایسی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ اُس کے اندر کوئی فرد بیکار نہیں ۔ ممکن ہے اس وقت میں دریافت کروں تو بعض جماعتیں کھڑی ہو کر کہہ دیں کہ اُن میں کوئی بیکار نہیں لیکن اگر تحقیق کی جائے تو مجھے یقین ہے کہ ننانوے فیصدی جماعتوں میں بیکاری پائی جائے ، اور ثابت ہو جائے کہ انہوں نے اس بیکاری کو دور کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی ۔ جبکہ میری نصیحت یہ ہے کہ جماعت کا ایک فرد بھی بیکار نہ رہے۔ تو جماعتوں میں کثرت سے بیکار لوگوں کا ہونا بتاتا ہے کہ جماعت نے میری نصیحت پر بہت حد تک عمل نہیں کیا حالانکہ اگر وہ بیعت کے مفہوم کو مد نظر رکھتے تو اس وقت ایک بیکا ر بھی ہماری جماعت میں نہ ہوتا ۔ ہاں بجٹ کے متعلق دو باتیں میرے ذہن سے اُتر گئی تھیں جنھیں اب میں بیان کر دیتا ہوں ۔ بقایا جات کی ادائیگی کا طریق ایک بات تو سابقہ بقالوں کی ادائیگی کے متعلق ہے۔ میرے نزدیک جن جن جماعتوں کا بقایا بہت زیادہ ہے اگر انہیں تحریک کی جائے کہ وہ اپنے اپنے بقائے کا ۲ را یا ۳ را یا ۱۰ را یا ۲۰ را یا ۵۰ راہی اس وقت ادا کر دیں، اور بقیہ بقایا کی ادائیگی کی ذمہ واری اُٹھا ئیں تو اس تحریک کے نتیجہ میں جس قدر جماعتیں بھی بیدار ہوں گی وہ دوسروں کے لئے نمونہ ہوں گی اور انہیں بھی اپنے بقایوں کی ادائیگی کا فکر ہو جائے گا۔ پس جماعتوں میں بقایوں کی ادائیگی کے متعلق تحریک کی جائے کیونکہ قرضہ اسی صورت میں دور ہو سکتا ہے جبکہ ہم سابقہ قرضوں میں تخفیف دور سکتا ؟ کی کوئی صورت پیدا کریں ۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ محکمہ بیت المال اس طرف توجہ کرے گا اور نا کہ جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلائے گا۔