خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 164
خطابات شوری جلد دوم ۱۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء وقت ثابت ہو جائے کہ دین کو روپیہ کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنا مذہباً اور عقلاً سخت ضروری ہے تو لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسعھا کے مطابق ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہم میں اُس بوجھ کو برا نہ برداشت کرنے کی طاقت ہے۔ ورنہ خدا تعالیٰ کار ۔ ورنہ خدا تعالیٰ کا یہ قانون باطل ہو جائے گا اور کہنا پڑے گا کہ ہم میں بوجھ اُٹھانے کی طاقت تو نہ تھی لیکن بلا وجہ ہم پر بوجھ ڈال دیا گیا۔ پس جب بھی دینی ضرورتوں کا سوال آئے ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ ہم اُس بوجھ کے اُٹھانے پر مجبور ہیں یا نہیں ۔ اگر معلوم ہو کہ وہ بوجھ لا بدی ہے اور اگر اُس کو نہ اُٹھایا گیا تو اس میں دین کی ہتک ہو گی تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ خواہ ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے ہم میں اس بوجھ کے اُٹھانے کی طاقت ہے کیونکہ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔ الله تعالى وسعت کے مطابق ہی انسانوں پر بوجھ ڈالتا ہے ۔ پس جو سوال ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ جس کام کے کرنے کا ہم نے ارادہ کیا ہے آیا وہ لا بدی ہے یا ایسا کام ہے جس میں تعویق اور تاخیر کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسے کاموں میں سے ہو جو لا بدی اور ضروری ہوتے ہیں تو پھر ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم میں اُن کو بجا لانے کی طاقت موجود ہے۔ اور اگر معلوم ہو کہ وہ ایسا کام نہیں جسے فوری طور پر کرنا ضروری ہو بلکہ اُسے ہم پیچھے بھی ڈال سکتے ہیں تو اُس وقت ہمیں اپنی عقل سے کام لینا پڑے گا اور سوچنا پڑے گا کہ کیا واقعہ میں ہم موجودہ حالات کے لحاظ سے اس بوجھ کو نہیں اُٹھا سکتے ۔ پھر اگر ہم دیانتداری سے اس نتیجہ پر پہنچیں کہ ہم اس بوجھ کو نہیں اُٹھا سکتے تو ہم کہہ دیں گے یہ چونکہ ہماری مرضی پر منحصر ہے اور اس میں خدا کا کوئی حکم نہیں اس حکم نہیں اس لئے ہم اسے دوسرے وقت پر ڈالتے ہیں ۔ بعض دوستوں نے کہا ہے جو لوگ سوتے ہیں اور جگانے کے باوجود نہیں جاگتے اُنہیں ہم کیوں جگائیں ؟ یہ بھی ایک فلسفہ ہے اور اس معاملہ کے متعلق بھی میں دو چار باتیں کہنا چاہتا ہوں ۔ بعض دوست ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ جاگتے ہیں اُنہیں ہم کیوں جگائیں ، جگانا اُن کو چاہئے جو سو رہے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جو سوتے ہیں اُنہیں ہم کیوں بیدار کریں۔ جو بیدار اور ہوشیار ہیں اُن سے کام لینا چاہئے مگر در حقیقت یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ نہ یہ صحیح ہے کہ جو لوگ جاگتے ہیں انہیں نہ جگاؤ اور نہ یہ درست ہے کہ سوتوں کو نہ