خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 68
خطابات شوری جلد اول ۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء کہتی ہے اور آریہ اس کے درپے ہیں کہ وہ اس کلمہ کو چھڑوا دیں اور کافر کر دیں ۔ ایسی صورت میں کیا ہمیں اپنی ذات کو نہیں بھول جانا چاہئیے ؟ وہ ہمیں جو چاہیں کہیں لیکن وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو گالیاں نہ دیں ۔ اس صورت میں ہمیں تو وہ گالیاں دیں گے ہی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی گالیاں دیں گے ۔ اگر وہ لوگ شیعہ ہوں یا حنفی ہوں یا اہلحدیث ہوں اس سے بہتر ہیں کہ وہ آریہ ہوں کیونکہ شیعہ، حنفی ، اہلحدیث وغیرہ ہو کر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں دیں گے ہمیں دیں گے۔ اس کی ہمیں پرواہ نہیں مگر آریہ ہو کر ہمیں بھی دیں گے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی گالیاں دیں گے ۔ میں جانتا ہوں کہ غیر احمدیوں میں کام کی روح نہیں۔ ان میں استقلال نہیں کہ مستقل ہو کر دشمن کا مقابلہ کر سکیں لیکن جتنا بھی وہ اس وقت تبلیغی اور دماغی کام کریں غنیمت ہے۔ آخر یہ کام ہمیں نے کرنا ہے۔ وہ لوگ وہاں جا سکتے ہیں جہاں ان کو آرام ملے ۔ یہ جنگلوں میں بھو کے پیاسے پھرنا ان کے بس کا کام نہیں ۔ پس ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے سوال پر اپنی عزت کو قربان کرتے ہیں۔ ہمیں یہ گوارا ہے کہ وہ ہمیں جو چاہیں کہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے نہ ہوں۔ میرے نزدیک اگر یہ سوال پیدا ہو کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ آیا یہ مسیح موعود کو گالیاں ملیں یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو؟ تو ہم کہیں گے گو ہم نہیں چاہتے کہ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی ملیں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بچ سکے تو مسیح موعودؓ کو ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مقدم نہیں کریں گے۔ علاوہ اس کے جو لوگ ہمارے ساتھ کام کریں گے ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ضرور حق کے قبول کرنے کی توفیق ملے گی کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فرمایا تھا جب اُس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! جو نیکیاں میں نے حالت کفر میں کی تھیں ان کا مجھے کچھ بدلہ ملے گا تو آپ نے فرمایا اسْلَمْتَ بِمَا اسْلَفتَ یہ اسلام تیرے پہلے نیک کاموں کا بدلہ ہے۔ پس جو لوگ خدمت اسلام شوق اور درد اور اخلاص سے کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی خود رہبری کرے گا اور ان کو صداقت کے قبول کرنے کا موقع مل جائے گا۔ یہ خیال غلط ہے کہ ہماری اس میں پالیسی مد نظر ہے پالیسی نہیں بلکہ محض یہ آرزو ہے