خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 65

خطابات شوری جلد اول ۶۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء دوسری تجویز یہ تھی کہ جو لوگ مجبوری سے نہ جاسکیں وہ خرچ دیں ۔ اس پر گفتگو ہونے کے بعد حضور نے فرمایا کہ :- دو یہ سوال نتیجہ ہے لازمی خدمت کے سوال کا کہ جب لازمی خدمت رکھی جائے اور ایک شخص معذور ہو کہ وہ اس خدمت میں شامل نہ ہو سکے مگر اس کے دل میں شوق اور جوش ہو ایسے لوگوں کے لئے کوئی صورت ہونی چاہئیے کہ ان کے دل کو تسلی ہو جائے جبکہ حج بدل ہوتا ہے کہ ایک شخص کو خرچ دے دیا جاتا ہے اور خرچ دینے والے کو حج کا ثواب ملتا ہے اس لئے ہمیں معذوروں کو مستثنیٰ کرنا ہوگا اور معذور کی ایک تعریف کرنی ہوگی ۔“ فرمایا که دوست رائے دیں چنانچہ رائیں لی گئیں :- 66 (1) تجویز کے حق میں ۸۴ اور دوسری کی تائید میں ۱۸ ہوئیں ۔ فرمایا کہ :- وو ۸۴ را ئیں اس بات کی تائید میں ہیں کہ معذوروں کے لئے بھی رخصت نہیں کہ وہ نہ جائیں اور ۱۸ اِس کے خلاف ہیں ۔“ فرمایا :- چونکہ اب یہ سوال سامنے آ گیا ہے اس لئے اس کی عام اجازت تو ہونی نہیں چاہئیے کیونکہ اس سے امراء کا طبقہ محض روپیہ دے کر پیچھے رہ جائے گا ہاں جن لوگوں کو واقعی معذور خیال کیا جائے اُن سے تین مہینہ کا خرچ لیا جا سکتا ہے لیکن معذور کی تعریف یہ ہو گی کہ ان لوگوں کو معذور سمجھا جائے گا جو بیماری کی وجہ سے چار پائی سے نہ اُٹھ سکیں یا چل پھر نہ سکتے ہوں یا عورتیں یا ایسا بیمار کہ جس کی بیماری لمبی اور اس کی طاقت سلب ہو گئی ہو۔ پس اس تعریف کے مطابق تین قسم کے لوگ ہو گئے ۔ کے ہو۔ (۱) بیمار جو اُٹھ نہ سکیں ۔ نہ سکیں۔ (۲) عورتیں (۳) ۳) ایسے ایسے بیمار بیمار جو جو نقل حل و حرکت نہ کر سکیں اور ور ان ان کی کی بیماری بیماری لمبی ہی ہو ہو وہ وہ تین تین ماہ ماہ کا کا خرچ خرچ دے دے دیں اُن کا خرچ دینا ایسا سمجھا جائے گا کہ گویا اُنہوں نے اپنی ذات سے خدمت کی ۔ 66 اس کے بعد دو پہر کا وقفہ ہو گیا۔ وقفہ کے بعد اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو حضور نے فرمایا :-