خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 637

خطابات شوری جلد اول ۶۳۷ اختتامی تقریر اختتامی تقریر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء ” جس حد تک مشورہ کا تعلق تھا آج کا کام ختم ہو گیا ہے۔ اب میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارا یہ اجا یہ اجتماع کسی نہ کسی رنگ میں معنی خیز ہونا چاہئے ۔ احباب اس موقع پر آئے ، یہاں مجلس میں بیٹھے، باتیں کرتے رہے اور دوسروں کی باتیں سنتے رہے اور جواب دیتے رہے، تعریف کرتے رہے یا کسی بات کا انکار کرتے رہے لیکن بہت ہیں جو یہاں سے جا کر اس اثر کو بھول جاتے ہیں جو یہاں سے لے کر جاتے ہیں۔ میں اس وقت دوستوں کے سامنے ایک سوال رکھتا ہوں ۔ وہ مجھے اس کا جواب دیں اور جواب دیتے وقت اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ ان کی سبکی ہو گی کیونکہ میرا یہ سوال تربیت کے لئے ہے۔ کچھلی مجلس مشاورت کے موقع پر نمائندگان نے عہد کیا تھا کہ ہر ایک نمائندہ مجلس شوری کا سال میں کم از کم تین احمدی بنانے کی کوشش کرے گا یہ اور بات ہے کہ کسی نے کوشش کی مگر کوئی احمدی نہ ہوا۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کس حد تک انہوں نے اس طرف توجہ کی ۔ گو دوسری دُنیا میں یہ عجیب بات سمجھی جائے کہ دل کی بات کس طرح معلوم ہو سکتی ہے مگر مجھے یقین ہے کہ احباب صحیح بات کہیں گے۔ چونکہ ممکن ہے کہ اس سال کچھ نئے نمائندے آئے ہوں اس لئے جو نمائندے پچھلی دفعہ مقرر کئے گئے تھے خواہ جماعتوں کی طرف سے خواہ میری طرف سے وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ 66 تعمیل ارشاد میں ایسے احباب کھڑے ہو گئے ” اس سال جو نئے نمائندے آئے ہیں وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ اس کی تعمیل میں بھی کچھ احباب کھڑے ہوئے اب بھرے ہو 66 اب وہ دوست جنہوں نے سال بھر اس وعدہ کو یاد رکھ کر کوشش کی وہ کھڑے ہو جائیں خواہ ان کے ذریعہ تین آدمی احمدی ہوں یا نہ ۔“ فرمایا:- ایسے احباب کھڑے ہو گئے ۸۸ دوست ایسے ہیں جنہوں نے کوشش کی ۔ اُن میں سے بعض کامیاب ہو گئے اور