خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 633
خطابات شوری جلد اول ۶۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء ایسے شرائط لگا دیئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہوسکیں جو اپنے صدق اور کامل راست بازی کی وجہ سے ان شرائط کے پابند ہوں ۔“ اب اردو کے لحاظ سے اگلی شرطیں اگر وحی خفی سے ہیں تو لفظ ”ایسے“ کا استعمال نہیں ہونا چاہئے تھا۔ بلکہ لفظ ” وہ ہونا چاہئے تھا۔ ایسے کا لفظ اردو زبان میں نا ممکن قرار دیتا ہے کہ اگلی شرائط وحی خفی کے ماتحت ہوں ۔ وحی نے اگر بتایا ہوتا کہ یہ شرطیں ہیں تو آگے بتاتی مگر وہ تو کہتی ہے کہ ایسے ایسے شرائط لگا دو جس کا مفہوم یہ ہے کہ وحی خفی صرف یہ چاہتی ہے کہ صدق اور کامل راست بازی پائی جائے ۔ آگے یہ کہ کس طرح پائی جائے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بیان کیا ہے۔ پھر کہا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے یہ سوال پیش ہوا کہ آمد کے متعلق یہ یہ شرط شرط لگا دی جائے جس کا رسالہ الوصیت الو صفحه ۳۴ پر ذکر ہے۔ اس لئے پہلی شرائط وحی خفی کے ماتحت نہ تھیں ورنہ ان میں اس طرح اضافہ نہ کیا جاتا۔ میر محمد اسحق صاحب اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ بھی وحی سے لگائی گئی ہے مگر اس کا ہیڈنگ ہی بتاتا ہے کہ یہ بات نہیں۔ ہیڈ نگ یہ ہے کہ بعض ہدایات درباره وصایا مصدقہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام“۔ اب سوال یہ ہے کہ وحی خفی کا فیصلہ تو نبی کرتا ہے نہ کہ لوگ مگر یہاں فیصلہ انجمن کرتی ہے اسے یہ حق کہاں تھا کہ وحی کے فیصلہ کو بدل کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے پیش کرے۔ یہ کہیں مثال نہیں ملتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی حکم وحی خفی سے بیان فرمایا ہو اور صحابہؓ نے میٹنگ کر کے ایک فیصلہ کیا ہو اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جائیں اور کہیں ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے آپ فرمائیں وحی اس کی تصدیق کرتی ہے یا نہیں؟ پس اگر وصیت کی شرائط وحی سے ہوتیں تو پھر انجمن فیصلہ نہ کرتی بلکہ انجمن والے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جاتے اور کہتے آپ وحی خفی سے بتائیں کہ کیا کریں؟ مگر صدرانجمن پہلے فیصلہ کرتی ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جاتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اُس وقت صدر انجمن یہ نہ بجھتی تھی کہ شرائط کے الفاظ وحی خفی سے ہیں۔