خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 41

خطابات شوری جلد اول ۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء سکھا یا جاوے اس سے جماعت کی تربیت ہو گی ۔“ 66 مہمان سے کیا مراد ہے سب کمیٹی لنگر خانہ کی رپورٹ کے ایک سوال کہ مہمان سے سے کیا مراد ہے کیا مراد ہے پانی کیا مراد ہے؟ پر گفتگو کرتے رتے ہوئے حضور نے فرمایا :- دو یه سوال در حقیقت مہمان خانہ اور لنگر خانہ کا مجزو ہو گیا ہے کہ مہمان کی کیا تعریف ہے۔ جب سے ہوش سنبھالی ہے کیونکہ لنگر پہلے سے جاری ہے اُسی وقت سے سنتا آیا ہوں اس لئے معلوم ہوتا ہے لنگر کا جزو بن گیا ہے اور اب بھی اسی لئے پیش کیا گیا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ دو شکلوں میں اعتراض ہوتا ہے بعض قادیان والے تو یہ کہتے ہیں کہ کئی لوگ اپنے اغراض کے لئے آتے ہیں اور لنگر پر بوجھ ہوتے ہیں۔ اور بعض باہر والے کہتے ہیں کہ خواہ کوئی کتنا عزیز ہو کوئی پوچھتا نہیں ۔ یہی کہتا کہ کب آئے؟ لنگر میں اسباب رکھ آئے یا رکھ آؤں؟ تو یہ دو رنگ کا اعتراض ہے مگر باوجود ان اعتراضات کے حضرت صاحب نے کوئی شرط نہیں لگائی جس سے دو چار دس میں ہٹ جائیں ۔ خواہ کسی سچے مہمان کی دل شکنی بھی ہو جائے۔ پھر خلیفہ اول کے وقت بھی یہ سوال پیش ہوا حتی کہ ایک لمبا خط ڈاکٹر محمد حسین نے لاہور سے اس کے متعلق لکھا ۔ مولوی صاحب نے پڑھ کر مجھے بتایا کہ یہ خط آیا ہے اور پھر ایسے الفاظ فرمائے کہ گویا آپ ان کو جماعت میں سمجھتے ہی نہیں تھے ۔ گو خلافت کی وجہ سے بھی ناراض تھے۔ اب میرے پاس بھی یہ سوال آچکا ہے۔ میں فطرتاً بھی اور پیش روؤں کی وجہ سے بھی اس کے خلاف تھا۔ میں نے پیش اِس لئے نہ ہونے دیا کہ دونوں قسم کے اعتراض جو یہاں کے اور باہر کے لوگ کرتے ہیں ان کو اپنی غلطی کا علم ہو جائے ممکن ۔ کے مین ہے جو یہاں کے لوگ کہتے ہیں کسی وقت درست بھی ہو لیکن یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس کے ازالہ کے وقت کوئی فتنہ اور نقص تو پیدا نہیں ہوتا اور حقیقی مہمان کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ حضرت صاحب کے وقت کسی نے دعوت کی ۔ ایک کھڑا ہوا کہ پرچیاں مدعو شده لوگوں کی دیکھے۔ ایک سے پوچھا تمہارے پاس ہے؟ اُس نے کہا کہ نہیں اور اُسے نکال دیا۔ حضرت صاحب نے سُن کر کہا کہ اب میں اس واقعہ کو سن کر کھانا نہیں کھا سکتا ۔ کوئی کہے گا کہ وہ مستحق نہیں تھا مگر اس میں احتیاط کی ضرورت ہے تا کہ کوئی مستحق تکلیف نہ اُٹھائے