خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 619
خطابات شوری جلد اول ۶۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء مارا گیا، کیا وہ اسلام کی موت تھی ؟ نہیں بلکہ وہ اپنے خون سے لکھ گئے کہ اسلام کو فتح حاصل ہوگی ۔ پس وہ مقام حاصل کرو کہ تمہاری موت فتح کی موت ہو جیسا کہ ایک عرب شاعر نے کہا ہے يَا ذَالَّذِي وَلَدَتْكَ أُمُّكَ بَاكِياً وَالنَّاسُ حَوْلَكَ يَضْحَكُونَ سُرُورًا احْرِصُ عَلَى عَمَلٍ تَكُونَ بِهِ مَتى يَبْكُونَ حَوْلَكَ ضَاحِكاً مَسْرُوراً اے انسان! تو ایسا تھا کہ جب تو پیدا ہوا تو رو رہا تھا اور لوگ ہنس رہے تھے کہ بیٹا پیدا ہوا ۔ اب تو ایسے عمل کر اور تو ایسا مقام حاصل کر لے کہ جب تو فوت ہو تو لوگ رور ہے ہوں کہ وہ تیرے فوائد سے محروم ہو گئے اور تو ہنس رہا ہو کہ تو نے اپنا کام ختم کر لیا۔ مومن اپنا کام ختم کئے بغیر نہیں مرتا یہ وہ مقام ہے جس کے لئے مؤمن کوشش کرتا ہے کہ ایسے مقام پر پہنچ جائے جہاں موت اُس کے لئے باعث رنج نہ ہو بلکہ وہ اعلان ہو اسلام کی فتح کا اور وہ اعلان ہو اسلام کی کامیابی کا کیونکہ کب کوئی جرنیل اپنے سپاہی کو اس کی جگہ سے ہٹاتا ہے جب تک فتح نہ ہو گئی ہو۔ بے شک دنیا میں لوگ مارے جاتے ہیں اور ایسی حالت میں مارے جاتے ہیں جب کہ اُن کی فتح نہیں ہوتی لیکن دنیا کے جرنیلوں کے قبضہ میں زندگی نہیں ہوتی مگر خدا تعالیٰ کے قبضہ میں زندگی ہے۔ پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے کسی سپاہی کو اُس وقت میدانِ جنگ سے ہٹا لے جبکہ اُس کی فتح نہ ہوئی ہو۔ خدا تعالیٰ اُسی وقت ہٹاتا ہے جب کہ وہ سمجھتا ہے کہ قلعہ فتح ہو گیا ہے۔ پس موت پر قبضہ رکھنے والا خدا کسی کامل مومن کو اُس وقت تک نہیں مارتا جب تک وہ فتح حاصل نہ کرلے اور اُس کا کام ختم نہ ہو جائے ۔ پس تم اپنے آپ کو اُس مومن کی مانند بناؤ جس کو خدا تعالیٰ فتح حاصل کرنے کے لئے کھڑا کرتا ہے تب تمہاری موت اسلام کی فتح ہو گی ۔ مومن کی موت خدا تعالیٰ کی طرف سے بُلا وا ہوتا ہے اور بلا وا اُسی وقت ہوتا ہے جب کام ختم ہو جائے پس تم خدا تعالیٰ کے سپاہی کی طرح کام کرو۔ بیشک عقل کو کام میں لاؤ مگر یاد رکھو عاشق زیادہ عقل کو کام میں نہیں لایا کرتے ۔ تم ہر بات کو سوچو اور سمجھو مگر