خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 614

خطابات شوری جلد اول ۶۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء زور دیا؟ اس پر نوجوانوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم سے غلطی ہوئی ہم اپنی بات واپس لیتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نبی جب ہتھیار پہن لیتا ہے تو پھر نہیں لوٹتا۔ سے اس کے بھی یہی معنے ہیں کہ نبی اپنے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں موت پسند کرتا ہے ۔ کامیابی چاہتے ہو تو موت قبول کرو تو خدا کا وہ مقدس رسول نہیں کی جان زمین و آسمان سے بھی زیادہ قیمتی تھی ، جس کی جان کی خاطر ہزاروں صدیوں کے انسان قربان کئے جا سکتے تھے، جس کی جان کے ایک منٹ کی قیمت تمام کا ئنات نہیں ہو سکتی ، وہ بھی کہتا ہے کہ نبی جب ہتھیار لگا لے تو پیچھے نہیں ہٹ سکتا ۔ پھر ہماری کیا حقیقت ہے کہ ہم جب کھڑے ہوں تو کمریں کھولنے کا خیال بھی دل میں لائیں ۔ کیا جس کے لئے بیش قیمت ہیرا قربان کیا جا سکتا ہے اُس کے لئے کوئلہ نہیں قربان کیا جا سکتا ؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلہ میں ہماری جانیں کوئلہ جتنی بھی حیثیت نہیں رکھتیں ۔ وہ ہیرا ہو کر تیار تھا کہ خدا تعالیٰ کے عشق کی بھٹی میں جل جائے۔ پھر کیا ہم کوئلہ ہو کر نہیں جلیں گے؟ بحالیکہ یہ کہ کوئلہ بنایا گیا ہی جلنے کے لئے ہے۔ پس موت کو قبول کرو، تب کام ہوگا ۔ دُنیا کو فتح کرنے کا رنگ پیدا کرو اس وقت ہم جس کام کے لئے کھڑے ہوئے ہیں وہ دنیا کو فتح کرنے کا پروگرام ہے۔ اور چونکہ ہمارے سپرد دلوں کو فتح کرنا ہے اور ماریں کھا کر فتح کرنا ہے اس لئے زیادہ وقت اور زیادہ زور سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اب جو سال چڑھا ہے اس کے بعد پتہ نہیں خدا تعالیٰ موقع دے یا نہ، وہ کب تک ہمیں ڈھیل دے گا۔ ہمیں خیال کرنا چاہئے کہ ممکن ہے خدا تعالیٰ یہ فیصلہ کر دے کہ یہ جماعت فیل ہو گئی ہے اس لئے کوئی اور چکنی چاہئے۔ پچاس سال سے زائد ہو گئے کہ یہ کام ہمارے سپرد کیا گیا۔ اس عرصہ میں ہم نے اپنے اندر وہ رنگ پیدا نہیں کیا جو دُنیا کو فتح کرنے کے لئے ضروری ہے۔ ابھی تک جماعت کو جگانے اور ہوشیار کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔