خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 612
خطابات شوری جلد اول ۶۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء دار و مدار تھا۔ ایک نوجوان کے سپرد یہ کام تھا کہ اس کے فتح ہونے کی اطلاع نپولین کو دے۔ عین اُس وقت جب کہ وہ چلنے لگا اُس کے سینہ میں گولی لگی مگر وہ گھوڑ ا د وہ تھوڑا دوڑائے چلا گیا اور جا کر اطلاع دی کہ قلعہ فتح ہو گیا ہے۔ نپولین نے اسے دیکھ کر کہا تمہیں یہ کیا ہوا کیا گولی لگی ہے؟ یہ کہنا تھا کہ وہ اُسی وقت گر کر مر گیا ۔ جس جگہ اُسے گولی لگی تھی وہ ایسی نازک تھی کہ اُسے گولی لگنے کے بعد پھر جینا نہیں چاہئے تھا مگر چونکہ اُس میں یہ فوق العادت ارادہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ کام مجھے کرنا ہے اور میں اسے کر کے چھوڑوں گا۔ اس وجہ سے موت بھی اُس سے پیچھے ہٹی رہی تا وقتیکہ اُس نے اپنا کام نہ کر لیا۔ کیا جس کام کو ایک شخص اپنے ملک کی خاطر اور نپولین کی خاطر کر سکتا ہے اور موت کو بھلا کر جو ٹل نہیں سکتی کر سکا، کیا ہم دین کے لئے زندگی کو بُھول کر نہیں کر سکتے ؟ اس وقت اگر ہمیں موت بھی آجائے تو ہم کہیں گے ذرا پیچھے ہٹ ہمیں ابھی خدا کا کام کرنا ہے اور وہ بھی پیچھے ہٹ جائے گی۔ پس وقت آگیا ہے کہ ہم ہوشیار ہو جائیں ۔ اگر ہم اس پیغام کو نہ پہنچائیں گے جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے تو اُس درگاہ میں جس کا مجرم بہت ہی قابلِ رحم حالت میں ہوتا ہے مجرم کی حیثیت سے پیش ہوں گے دوست کی حیثیت سے نہیں ۔ کامیابی میں کوئی محبہ نہیں پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ سستی ترک کر دیں۔ وہ جو چُست نہیں چست ہو جائیں ، جو ہو شیار نہیں وہ ہوشیار ہو جائیں اور سستیاں چھوڑ دیں اور خدا تعالیٰ کا پیغام دنیا کو پہنچانے کے لئے سب کچھ بھول جائیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اس ارادہ اور اس ایمان کے ساتھ اگر چند ہزار بھی نکلیں گے تو پھر کامیابی میں شبہ نہیں ہو سکتا۔ تمام روکیں اور تمام مشکلات اُن لوگوں کی وجہ سے ہیں جن کے ارادوں میں سستی اور جن کی نیتوں میں صفائی نہیں ۔ دائمی زندگی حاصل کرنے کا اصل خوب اچھی طرح یاد رکھو جو شخص مرنے کے لئے تیار ہو جائے اُسے کوئی نہیں مار سکتا۔ سچے طور پر موت قبول کرنے والی انبیاء کی جماعت ہی ہوتی ہے۔ پھر کوئی ہے جو اُسے مار سکے؟ ہرگز نہیں ۔ دائمی زندگی حاصل کرنے کا اصل یہی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے لئے موت قبول کرے اور جب کوئی انسان اس ارادہ سے کھڑا ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اسے زندہ