خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 602
خطابات شوری جلد اول جائیں گے اور کوئی مشکل نہ رہے گی ۔“ 66 ۶۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء اختتامی تقریر مجلس مشاورت کے تیسرے دن آخری اجلاس میں سب اسب کمیٹی بیت المال کی رپورٹ پیش ہوئی ۔ اس پر بحث اور فیصلہ جات کے بعد حضور نے اپنی اختتامی تقریر میں احباب جماعت کو چند اہم امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:- نادہندوں کے متعلق بعض دوستوں نے بجٹ کے متعلق گفتگو کرتے وقت بعض باتیں آئیں باتیں ایسی کہی ہیں کہ ان کے متعلق میں کچھ کہنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ایک تو نادہندوں کے متعلق غلط فہمی ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اگر تمام کوششوں کے با وجود بھی کسی جماعت میں نادہند رہیں تو اس جماعت کو نا کام سمجھا جائے گا اور اُس سے گرفت کی جائے گی مگر یہ کبھی نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ جو طریق وصولی کے بتائے گئے ہیں اُن کے مطابق کوشش نہ کریں گے تو پھر گرفت کی جائے گی ۔ کارکنوں کا کام یہ ہے کہ جو ناد ہند ہوں اُن سے وصول کرنے کی پوری کوشش کریں ۔ اگر وہ پھر بھی نہ دیں تو اُن کے متعلق مرکز میں رپورٹ کریں ۔ اس پر تحقیقات کی جائے گی کہ کارکنوں نے پوری کوشش کی ہے یا نہیں۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اُنہوں نے پوری کوشش کی ہے تو پھر ان پر کوئی الزام نہ ہو گا صرف اُنہی پر الزام ہو گا جنہوں نے نہ تو تخفیف کی درخواستیں بھجوائی ہوں گی اور نہ نادہندوں کے متعلق رپورٹ کی ہو گی یا پھر وصولی کرنے کی پوری کوشش نہ کی ہوگی ۔ لیکن اگر یہ صورتیں اختیار کی ہوں گی تو پھر الزام نہ ہوگا۔ بلا تفصیل رقوم کے متعلق فیصلہ بلا تفصیل رقوم کے متعلق کثرت رائے سب کمیٹی کی تجویز کے حق میں ہے میں اسے منظور کرتا ہوں ۔ چندہ کی مساوی شرح ایک دوست نے کہا ہے کہ چندہ جس طریق سے رکھا گیا ہے یعنی ہر ایک کے لئے خواہ کسی کی زیادہ آمدنی ہو یا کم سب کے لئے ایک ہی شرح ہے اس سے اخلاص باقی نہیں رہتا۔ میرے خیال میں ان کی گفتگو اصولی تھی مگر بعض نے رقعے لکھے کہ یہ اخلاص پر حملہ کیا گیا ہے۔ مجھ پر ان کی گفتگو سے یہ اثر نہ تھا اور میرے خیال میں اگر ایسا اثر ہوا تو بہت کم لوگوں پر ورنہ اکثریت پر یہ اثر نہیں تھا بلکہ یہ