خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 564

خطابات شوری جلد اول ۵۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء سنجیدگی سے ہونے چاہئیں ۔ مثل مشہور ہے کہ بتیس دانتوں میں زبان ۔ مگر ہم ۳۲ میں نہیں ۷۲ سے زیادہ تو مسلمانوں کے ہی فرقے ہیں اور دوسرے لوگوں کا کچھ شمار ہی نہیں ۔ پس اگر ۳۲ دانتوں میں زبان قابلِ رحم ہوتی ہے تو جو لوگ ہزار ہا مخالف فرقوں میں ہوں اُن کا کیا حال ہو گا۔ ایک طرف ہم پر خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ ذمہ داریاں ہیں تو دوسری طرف ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے کسی فعل سے دشمن کو شماتت کا موقع نہ دیں ۔ صلح حدیبیه کے بعد صحابہ حج کے لئے گئے تو بہت کمزور تھے۔ اُس وقت ایک قسم کا بخار پڑا تھا جس کی وجہ سے صحابہ بہ کمزور کمزور ہو ہو گئے ۔ جب صحابہ طواف کرنے لگے تو مکہ والے ایک پہاڑی پر چڑھ کر اُنہیں دیکھنے لگے۔ اُس وقت ایک صحابی نے اس طرح کیا کہ جب کفار کے سامنے سے گزرتا تو اکڑ کر چلتا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس سے پوچھا اس طرح کیوں کرتے ہو؟ اُس نے کہا یا رسول اللہ! ہم بخار کی وجہ سے کمزور ہو گئے ہیں میں کفار کے سامنے اس لئے اس طرح چلتا ہوں تا یہ نہ سمجھیں کہ ہمارے دل بھی کمزور ہو گئے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سُن کر ہنسے اور فرمایا خدا بھی اس پر ہنسا ہے تو مومن کو اپنے ہر کام میں یہ امور مد نظر رکھنے چاہئیں ۔ اوّل ۔ اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مد نظر ہو اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کام دشمن کی نظر میں حقیر نہ ہونے پائے ۔ پس اول تو للہیت مد نظر ہونی چاہئے اور اس کے قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے دوسرے دشمن کے اعتراضات سے مانوں اور اسلام کو بچانا چاہئے پھر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہمارے کام کسی ظاہری بدلہ کے بغیر ہوتے ہیں۔ دوسری کمیٹیوں کے کام جو لوگ بے بدلہ کرتے ہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے احسان کیا مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ جب ہم نے مسلمان ہونے کا دعوی کیا تو ان الله اشترى من الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ هلا کے ماتحت خدا تعالیٰ نے جنت کے بدلے میں ہمیں خرید لیا ۔ ہمارا سودا ہو چکا ہے۔ لوگ کہتے ہیں سودا کرنا بُرا ہوتا ہے مگر یہ سودا اُس سے ہے کہ بے شمار دے کر بھی اُس کے خزانہ میں کمی نہیں آتی ۔ سودا اُس سے بُرا ہوتا ہے جو دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اس سے کچھ چھینا عیب کی بات ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ سے ان اخلاقی لائنوں پر سودا کرنا جنہیں اُس نے پسند کیا عیب نہیں ہے۔