خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 544
خطابات شوری جلد اول ۵۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء تجربہ سے مشکلات کا پتہ لگ جائے گا اور آئندہ کے متعلق پھر فیصلہ کر سکوں گا۔ مجھے دو باتوں میں تردد ہے ایک تو اپنی صحت کے لحاظ سے کہ اگر میں بیمار ہوا تو تقریر نہیں کر سکوں گا اور اگر بیمار نہ ہوا تو روزہ رکھ کر گھنٹہ آدھ گھنٹہ سے زیادہ نہ بول سکوں گا إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ ۔ دوسرے یہ کہ دونوں وقت کے کھانے اکٹھے ہو جائیں گے۔ شام کا کھانا کھا کر ۱۱ ۱۲ بجے رات تک ہم جاگتے رہیں گے اور پھر سحری کا کھانا کھانا پڑے گا ۔“ سب کمیٹی دعوۃ و تبلیغ نے تجویز دة وتبلیغ نے تجویز پیش کی کہ مبلغین کی آسامیاں تبلیغ بذریعہ اشاعتی امامیان کم کر کے کچھ رقم بچائی جائے اور اس سے تبلیغی اشتہارات شائع کئے جائیں ۔ چند ممبران کی آراء کے بعد حضور نے فرمایا :- دو احباب نے دونوں طرف کی باتیں سُن لی ہیں ۔ یہ ایسا اہم معاملہ ہے کہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا سوال ہے اور اس میں تھوڑی سی غلطی بھی ہمیں بہت بڑے مصائب میں مبتلا کر سکتی ہے۔ جتنا حصہ سوال کا اس وقت پیش کیا گیا ہے۔ وہ ایسا ہے کہ اس معاملہ کے مخالف حیران ہیں کہ اگر وہ کوئی دلیل دیتے ہیں تو وہ اگلے حصہ پر عائد ہوتی ہے جو پیش نہیں کیا گیا۔ اس وجہ سے وہ دلیل پیش نہیں کر سکتے اور اگر اپنے دلائل پیش نہیں کرتے تو اعتراض یہ بنتا ہے کہ اشتہارات اور ٹریکٹ شائع نہ کئے جائیں اور اس طرح تبلیغ نہ کی جائے ۔ ان کے دلوں میں بعض شبہات پیدا ہوتے ہیں اور میرے دل میں بھی پیدا ہوئے اور ایسی حالت میں پیدا ہونے لازمی ہیں۔ مثلاً کوئی آئے اور کہے آؤ کھانا کھائیں تو شبہ پڑ سکتا ہے کہ کھانا تو روز کھاتے ہیں ۔ اس کھانے میں کوئی اور بات ہے ۔ اسی طرح جب دعوۃ و تبلیغ کا کام ہی یہ ہے کہ تبلیغ کرے اور تمام تبلیغی ذرائع سے کام لے تو پھر اس کی طرف سے یہ سوال اٹھانا کہ تبلیغ بذریعہ اشاعت کی جائے مشبہ پیدا کرتا ہے کہ یہ نیا ادارہ کیوں قائم کیا جا رہا ہے۔ اس کی کوئی مخفی وجہ تو نہیں کہ دو قدم چلا کر پھر کسی نا جائز بات کی طرف لے جائیں ۔ یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے اور مجھے بھی پیدا ہوا مگر یہ ابھی آئندہ کی بات ہے۔ اس لئے