خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 542
خطابات شوری جلد اول ۵۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء اس کے مقابلہ میں کہا جا سکتا ہے سردیوں میں بستر لانے پڑتے ہیں لیکن دوسرے موسم میں ایک چادر کافی ہوگی ۔ سردیوں میں کمرہ کی ضرورت ہوتی ہے دوسرے ایام میں کھلی زمین پر گزارہ ہو سکتا ہے۔ کئی بوڑھے ایسے ہوتے ہیں جو سردی کی وجہ سے جلسہ میں نہیں آ سکتے وہ شامل ہو سکیں گے۔ سکندر آباد کے سیٹھ ابراہیم صاحب ہی ہیں جو اس مجلس مشاورت کے موقع پر تو آگئے ہیں لیکن سردیوں میں نہیں آ سکتے ، ایسے لوگوں کو آنے کا موقع مل جائے گا۔ اگر ایک جماعت جلسہ میں شریک ہونے سے محروم رہے گی تو ایک اور جماعت کو شرکت کا موقع مل جائے گا اور اس طرح کمی پوری ہو جائے گی ۔ جلسہ گاہ میں گرمی کا علاج اس طرح ہو سکتا ہے کہ عصر کے وقت سے رات تک جلسہ کر لیا جائے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رمضان میں سفر مناسب نہیں ۔ اس کے مقابلہ میں کہا گیا ہے کہ جب سفر پیش آجائے تو روزہ نہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ مولوی شیر علی صاحب نے ایک بات بیان کی ہے جو وزنی ہے۔ رمضان میں سفر کا پیش آنا اور چیز ہے لیکن سفر کا موقع پیدا کرنا اور چیز ہے۔ اگر لوگ رمضان میں شادیاں اس غرض سے رکھیں کہ انہیں سفر کرنا پڑے گا اور شریعت نے سفر میں روزہ نہ رکھنے کی جو اجازت دی ہے اس پر عمل کر سکیں گے تو اس طرح شریعت کا منشاء پورا نہ ہو گا۔ اس کے مقابلہ میں یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ سفر ہم نہیں پیدا کر رہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیدا کر دیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بعینہ ایسی بات کے متعلق سفر کا موقع پیدا کیا اور اس بات کی پرواہ نہ کی ۔ سفر کا یہ نیا موقع پیدا نہیں کیا جا رہا۔ ایک جلسہ رمضان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہوا اور باہر سے لوگ اُس میں شرکت کے لئے آئے۔ ایک دوست نے یہ آیت پڑھ دی کہ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ! دوسرے نے کہہ دیا اگلی آیت بھی پڑھ دیں جو یہ ہے۔ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخر ہے کہ جو مریض ہو یا سفر میں وہ دوسرے ایام میں روزہ رکھے۔ پھر کام کرنے والوں کے لئے تو آسانی ہوگی کہ سردی کا موسم ہو گا لیکن تقریر کرنے والوں کے لئے مشکل ہوگی ۔