خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 534

خطابات شوری جلد اول ۵۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء ہے اور سورہ فاتحہ کی ابتدا کی طرف رجوع کر کے کہتا ہے ۔ الْحَمْدُ يَتُو رَبِّ الْعَلَمِينَ ۔ اس طرح یہ چکر جاری رہے تب انسان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا اور اس میں ترقی پا سکتا ہے ورنہ اگر یہ چکر جاری نہ رہے تو ترقی نہیں ہو سکتی ۔ قوموں کے مٹنے کی وجہ دنیا میں تمام قو میں جو مئیں تو اس لئے کہ ایک مقصد حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے لئے نیا مقصد نہ پیدا کر سکیں اور جب نیا مقصد سامنے نہیں ہوتا اُسی دن سے تباہی شروع ہو جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں یہ بتایا ہے کہ ترقی کبھی ختم نہیں ہوتی اور تم ولا الضالین کہہ کر چپ نہیں ہو سکتے ۔ انسان الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سے شروع ہو کر ولا الضالین تک جب ایک عالم طے کر لیتا ہے اور پھر الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ایک اور ترقی کا مقام اُس کے سامنے ہے تب وہ اس کے لئے کوشش کرنے میں لگ جاتا ہے۔ غرض سورہ فاتحہ میں جو گر بتایا گیا ہے اس پر عمل کرنے سے ہی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ پس اس وقت میں ایک نصیحت تو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ احباب مجلس مشاورت میں خالی الذہن ہو کر بیٹھیں اور خدا تعالیٰ سے وابستگی پیدا کریں اور دُعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ صحیح راستہ دکھائے پھر کامیاب ہونے کے لئے اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ رِفقاً بِالْقَوَارِير - جماعت میں کمزور بھی ہیں وہ بھی ساتھ چل سکیں ۔ پھر جب پیدا نہ ہو۔ اور جب اس سے بچیں تو پھر کام ختم کر کے بیٹھ نہ رہیں بلکہ نئے سرے سے کام شروع کر دیں ۔ ہمارا خدا رَبُّ الْعَالَمِينَ ہے۔ غیر محدود ترقیاں اس کے پاس ہیں۔ ایسی غیر محدود جو کبھی ختم نہیں ہوسکتیں ۔ پھر ہم ان کے حصول کے لئے مسلسل کوشش کیوں نہ کرتے رہیں ۔ چند باتیں اس کے بعد عام عارضی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اختصار کے باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ د کے ساتھ چند اول یہ کہ قادیان کے دوستوں کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ باہر سے جو دوست آئے ہوئے ہیں انہیں بولنے کا زیادہ موقع دیں۔ یہاں کے دوست ہر وقت مشورہ دے سکتے ہیں لیکن باہر کے دوستوں کو کم موقع ملتا ہے لیکن ایک بات اور بھی مد نظر رکھنی چاہئے اور ، ملتا اور مد وہ یہ کہ جو ناظر صاحبان ہیں اُن کا فرض ہے کہ اگر کوئی بات کسی غلط فہمی کی وجہ سے لمبی ہو