خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 493

خطابات شوری جلد اول ۴۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء علیہ وآلہ وسلم نے غیر مسلم قیدیوں کا معاوضہ یہ مقرر کیا تھا کہ وہ مدینہ کے لڑکوں کو پڑھا دیں تو آزاد کر دیئے جائیں گے لیے اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں جو عورتیں پیدا ہو کر جوان ہوئیں وہ سب پڑھی ہوئی تھیں ۔ غرض عورتوں کی تعلیم نہایت ضروری ہے۔ جب تک قوم کے تمام افراد ایک لیول (LEVEL) پر نہ ہوں قوم ترقی نہیں کر سکتی ۔ بچوں کی تعلیم و تربیت ہماری جماعت کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں تعلیم پائیں اور دونوں کی اعلیٰ درجہ کی تربیت کی جائے۔ میں نے متواتر دوستوں کو توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ پوری طرح بچوں کی تربیت نہ کریں گے تو ترقی نہیں ہو سکے گی ۔ میں بات تو گرلز سکول کے متعلق کر رہا تھا مگر یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں کے بچے آوارہ ہو رہے ہیں ، گالی گلوچ کرتے ہیں ، نمازوں کے پابند نہیں ، وہ اپنی بھی تباہی کے سامان کر رہے ہیں اور جماعت کو بھی سخت نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ہزار طاعون بداخلاقی اور بد کرداری سے بہتر ہے مگر طاعون کے آنے پر شور مچ جاتا ہے اور اس سے زیادہ خطرناک چیز جو خود گھروں میں پیدا کی جاتی ہے اُس کی پرواہ نہیں کی جاتی ۔ ہماری جماعت کے لوگوں کا فرض ہے کہ بچوں کی تربیت کا پورا پورا انتظام کریں ۔ کا ہے کہ لڑکیوں کی کی تعلیم کا انتظام چونکہ ہم ہر جگہ لڑکیوں کی تعلم کا انتظام نہیں کر سکتے اس لئے یہاں کیا گیا ہے اور اب تو کالج کی جماعتیں بھی گھل گئی ہیں۔ پچھلے سال ۱۶ لڑکیاں انٹرنس کے امتحان میں پاس ہوئی تھیں ۔ اس پر غیر آئینی (غیر منظور شدہ) کالج کھول دیا گیا ہے کہ مرد پردہ ڈال کر لڑکیوں کو تعلیم دیں مگر یہ کافی نہیں ۔ اب ہم نے ایک عمارت کا انتظام کیا ہے اور امید ہے کہ جلد اس قابل ہو سکیں گے کہ لڑکیوں کے لئے بورڈنگ بھی قائم کر سکیں ۔ لڑکوں کی تعلیم کے لئے باہر سکول مل سکتے ہیں۔ گو تعلیم اور تربیت کے لئے جیسی فضاء قادیان میں ہے ایسی باہر میسر نہیں آ سکتی تاہم سکول ملتے ہیں لیکن لڑکیوں کے لئے نہیں ملتے اس لئے دور دور کے دوست خواہش کرتے ہیں کہ اپنی لڑکیوں کو یہاں تعلیم کے لئے بھیجیں۔ اس لئے ارادہ ہے کہ جب تعلیم کے متعلق مکمل