خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 26
خطابات شوری جلد اول ۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء لئے معلوم ہوا کہ مدرسہ سے ایسا خیال اس کے دل میں پیدا ہوا۔ اس پر مجھے اُسے مارنا پڑا کہ مولوی ہونا کونسی ہنسی کی بات ہے ۔ ہمارا تو فرض ہے کہ جو دین کے لئے تیاری کرتا ہے اُس کا زیادہ ادب و لحاظ کریں اُسے اپنا سردار سمجھیں ۔ خدمت دین کرنے والوں کی عزت کریں ۔ مگر ابھی تو یہ حالت ہے کہ ایک دنیاوی اعلیٰ پوزیشن والے کی بات دین کے معاملہ میں بھی اس کی نسبت زیادہ توجہ سے لوگ سنتے ہیں جو دین کا کام کرنے والا ہے۔ پھر مومن میں بڑی جرات ہونی چاہئے ۔ مومن کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے لیکن یہاں ذرا افسر ناراض ہو تو بڑی مصیبت آجاتی ہے۔ ایک نے لکھا کہ افسر ناراض ہو گیا ہے اب میں کیا کروں؟ میں نے کہا کیا ہوا ؟ کیا افسر خدا ہے؟ مومن کا کام یہ ہے کہ ساری دنیا کو حقیر سمجھے۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ کسی کا ادب نہ کرے۔ ادب کرے مگر کسی سے ڈرے نہیں ، دلیر ہو۔ تو مومن کو جرات و دلیری پیدا کرنی چاہئے ، ایثار پیدا کرنا چاہئے ، جوش پر قابو پانا چاہئے ، دیانت ، حق کی محبت ، بے رعائیتی ، سچی شہادت دینا، بدی کے مٹانے کا احساس رکھنا ، محبتِ عامہ رکھنا، زبان کو پاک رکھنا یہ بہت سے اخلاق ہیں بلکہ سینکڑوں ہیں مگر بہت سے لوگ واقف نہیں۔ اگر واقف ہیں تو ان کو کیفیت معلوم نہیں انکا خیال رکھنا ضروری ہے ایک ایک مرد کا ایک ایک عورت کا ایک ایک بچہ کا، جب تک ان کی طرف خیال نہیں ہوگا تعلیم و تربیت کا صیغہ اپنے کام میں ناقص ہوگا ۔ پھر عورتوں کی تعلیم ہے اس کی طرف توجہ نہیں۔ اس کے لئے ضروری انتظام کرنا ہے۔ پھر امور عامہ، قضاء، اور احتساب کا صیغہ ضروری ہے جو ہر جگہ ہونا چاہئے کیونکہ یہاں کے صیغہ والے کس طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ لاہور میں سارے احمدی نماز با قاعدہ پڑھتے ہیں یا نہیں یا تو نو کر رکھیں جو انہیں پتہ دیں مگر روپیہ کہاں سے لائیں اس لئے ضروری ہے کہ ان دفاتر کی شاخیں ہر جگہ ہوں اور ان کے ذریعہ کام کیا جاوے۔ اب چندہ کے لئے تو سارے جمع ہو جاتے ہیں لیکن یہ ہو کہ حقہ کے روکنے کے لئے یا گالیاں بند کرنے کے لئے مشورہ کرنا ہے تو جمع نہیں ہوتے حالانکہ یہ بہت اہم باتیں ہیں۔ تو ہر جگہ قضاء، امور عامہ و احتساب ہو۔ مثلاً امور عامہ کا کام ہے کہ سرکاری افسروں کو جماعت کے معاملات سے واقف کریں ۔ اگر ہر جگہ ایسے آدمی ہوں جن کو مقرر کیا جاوے تو جماعت کی بہت سی مشکلات