خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 462

خطابات شوری جلد اول ۴۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء لے لے کر پڑتال نہ کی جائے گی بلکہ ایک عام حالت کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ ہو سکے گا۔ ممکن ہے ایسے لوگ چندہ عام بھی دیتے رہیں اور ان کے اخلاص میں پہلے سے بھی زیادہ ترقی ہو جائے ۔ اس صورت میں ہم اس تجویز کو جاری رکھیں گے جب تک کہ کوئی نقص نہ پیدا ہو اور اگر ہمارے زمانہ میں اس سے کوئی نقص نہ پیدا ہو لیکن بعد میں آنے والے دیکھیں کہ یہ نقصان رساں ہے تو وہ بند کر سکتے ہیں لیکن اگر پانچ سال کے عرصہ میں ہی اس کے نقائص ظاہر ہونے لگ گئے اور ایسے لوگوں کی روحانیت میں کمی واقع ہوئی تو پھر ہم مالی فائدہ کا لحاظ نہ کریں گے، اس وقت ہم مالی نقصان برداشت کر لیں گے اور اس تجویز کو روک دیں گے۔“ نظارت امور عامه جماعت کی اقتصادی ترقی اور پسماندگان کے انتظام کی سکیم کا ترانہ سے جماعت کی اقتصادی ترقی اور پسماندگان کے انتظام کی سکیم کی ضرورت بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ :۔ بہت سے احباب جو خود اپنی آمدنی سے کچھ رقم بچانے کے عادی نہیں ہیں یا جن کے حالات ہی اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ کچھ بچا نہیں سکتے ان کی وفات پر ان کے پسماندگان کی حالت نہایت بے بسی کی ہوتی ہے یا بڑھاپے میں ان کی اپنی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے کیونکہ اخراجات کے چلانے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا ۔ موجودہ زمانہ کی کمپنیاں اس قسم کے انتظامات کرتی ہیں لیکن چونکہ وہ سودی کاروبار کرتی ہیں اس لئے ہم ان میں شامل نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے ایسے انتظام کی ضرورت ہے کہ جس میں سود یا جوئے کا دخل نہ ہو۔ جماعت کے لوگ روپیہ جمع کر سکیں۔ جو ان کے بڑھاپے یا وفات پر ان کے لواحقین کے کام آئے۔ اس کے متعلق حضور نے فرمایا :- دو پیشتر اس کے کہ ان احباب کا نام دریافت کیا جائے جو اس تجویز کے متعلق بولنا چاہتے ہوں ، میں اس بات کی تشریح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ جو سکیم اس وقت پیش کی گئی ہے اس کے دو حصے ہیں ایک تو یہ کہ ایسی سکیم جاری کرنی چاہئیے یا نہیں اور دوسرا تفاصیل کا حصہ ہے۔ بجائے اس کے کہ ایک ایک امر کولے کے پیش کیا جائے اور اس کے متعلق رائے