خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 456
خطابات شوری جلد اول ۴۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء لے سکیں تو کہہ دینا چاہئے وصیت اس صورت میں منظور کی جاسکتی ہے جب کہ تم اپنی زندگی (۲) یا اگر ایسی جائیداد ہے کہ جس کا ہبہ ہو سکتا ہے تو ہبہ کر دو۔ اگر وہ ہبہ کر دے تو میں حصہ جائیداد کی قیمت ادا کر دو وصیت منظور کر لینی چاہئے ورنہ نہیں ۔ (۳) اگر ایسی جائیداد ہے کہ اس کی وصیت ہو سکتی ہے تو وصیت کرالیں ۔ وصیت کی منظوری کے لئے کافی ہو گا۔ اور سوائے اس کے کہ وصیت لکھانے میں کسی قسم کا نقص رہ جانے کی وجہ سے ہم حصہ جائیداد وصول نہ کر سکتے ہوں وصیت کرنے میں اور کوئی نقص نہ ہو تو وصیت کرنے والے کے وارثوں کا یہ جائز مطالبہ ہو گا کہ اُسے مقبرہ بہشتی میں دفن کیا جائے کیونکہ جب اس وصیت کا اطلاق مرنے کے بعد اُس کی جائیداد پر ہوتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اُسے دفن نہ کیا جائے ۔ اس صورت میں یہی طریق اختیار کرنا چاہئے کہ ورثاء سے جائیداد کے متعلق معاہدہ ہو جانا چاہیئے کہ وہ رقم ادا کر دیں ۔ پس اس بارے میں یہ تین صورتیں اختیار کرنی چاہئیں ۔ (۱) اگر جائیداد کے حصہ کا ہبہ نہ ہو سکتا ہو اور نہ وصیت تو اس صورت میں وصیت کرنے والے کو اپنی زندگی میں حصہ جائیداد کی قیمت ادا کرنی چاہئے اور وصیت کا سرٹیفکیٹ اُس وقت جاری کیا جائے جب جائیداد کی قیمت ادا ہو جائے یا یہ شرط کر لی جائے کہ اگر زندگی میں حصہ جائیداد کی قیمت ادا نہ ہوئی تو فوت ہونے پر وصیت منسوخ ہو جائے گی ۔ ۔ (۲) اگر ہبہ ہو سکتا ہو لیکن وصیت کرنے والے نے ہبہ کی بجائے وصیت کی ہو حالانکہ وصیت قانونی لحاظ سے اُس جائیداد کی نہ ہو سکتی ہو تو اسے کافی نہ سمجھا جائے جب تک ہبہ نہ کرا دے اور سرٹیفکیٹ اُس وقت جاری کیا جائے جب قانونی لحاظ سے بعد وفات موصی حصہ جائیداد وصول کر لینے کا اطمینان ہو جائے۔ (۳) اگر قانون مجاز کرتا ہو کہ وصیت کر دے اور کوئی وصیت کر دیتا ہے تو وہ اپنا فرض ادا کر ہے تو وہ دیتا ہے۔ اُسے سرٹیفکیٹ دے دینا چاہئے اور مقبرہ بہشتی میں دفن کرنا چاہئے ۔ اُس وقت دے دینا چاہیے اور قبر ہستی میں کرنا چاہئے۔ اس وقت یہ دیکھنا ہو گا کہ وصیت میں کوئی قانونی نقص تو نہیں رہ گیا۔ اگر قانونی طور پر کوئی نقص رہ گیا ہوگا تو اس کی ذمہ واری مقبرہ بہشتی کے کارکنوں پر بھی عائد ہو گی ۔ اور اگر کوئی ۔