خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 449

خطابات شوری جلد اول ۴۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ ہر اچھی بات مومن کی کھوئی ہوئی چیز ہے جہاں اسے پائے لے لے۔ اس کے مطابق ایک سبق ہم گاندھی جی سے بھی لے سکتے ہیں ۔ اُن کی غرض تو کھڈر بنانے سے یہ ہے کہ انگریزوں کو نقصان پہنچا ئیں لیکن ہم اس قسم کی تحریک اس لئے جاری کر سکتے ہیں کہ جماعت میں پیشوں سے جو نفرت ہے وہ دور ہو جائے ۔ اگر ایسی تحریک ہو کہ جماعت کے با اثر لوگ شغل کے طور پر ان پیشوں میں سے کوئی شروع کر دیں جنھیں ذلیل سمجھا جاتا ہے تو اس طرح لوگوں کے دلوں میں ان کی نفرت دور ہو جائے گی ۔ مثلاً اگر میں ہتھوڑا لے کر کام کروں یا کھڑی پر کپڑا نہوں تو جو لوگ میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، اُن کے دلوں سے ان پیشوں کی تذلیل کا خیال جاتا رہے گا۔ یورپ میں معز ز لوگ اس قسم کا کوئی نہ کوئی شغل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس سے ورزش بھی ہوتی ہے اور پیشوں سے نفرت بھی دور ہوتی جاتی ہے۔ احمد یہ یونیورسٹی ایجنڈا میں ایک تجویزا یز احمد یہ یونیورسٹی کے متعلق ہے۔ یہ کا یہ کام بہت بڑا ہے اور اس کی سکیم بھی ایسی ہے جو کہ قابلِ اصلاح ہے۔ اس وقت میں اس کی طرف صرف یہ اشارہ کرتا ہوں کہ سب کمیٹی یہ بات مدنظر رکھے کہ ہمارے سامنے مذہبی تعلیم کے دو پہلو ہیں ۔ ایک یہ کہ ہمارے نوجوانوں کی تعلیم ایسے رنگ میں ہو کہ وہ کسی سے کسی علم میں پیچھے نہ رہیں۔ اگر ہمارا کوئی مبلغ دنیوی تعلیم سے کورا ہو گا تو جہاں وہ کوئی ایسی بات کرے گا جو درست نہ ہو گی تو لوگ اس پر ہنسیں گے ۔ حضرت خلیفہ اول ایک قصہ سُنایا کرتے جو علم النفس کے ماتحت بہت لطیف ہے۔ فرماتے ایک بادشاہ کو ایک بناوٹی بزرگ سے بہت عقیدت تھی ۔ وہ مدتوں اُس کے پاس جاتا رہا۔ ایک دن اُس بزرگ کو شوق ہوا کہ بادشاہ پر سیاسی امور کے لحاظ سے بھی اثر ڈالوں ۔ اس خیال سے اُس نے کہا آپ کو ملک کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے ۔ مسلمانوں میں ایک بادشاہ سکندر گزرا ہے جو بہت مشہور تھا وہ ملک کی بڑی خدمت کرتا تھا۔ یہ سن کر بادشاہ اُٹھ بیٹھا اور پھر کبھی اُسے منہ نہ لگایا۔ تو مبلغ اگر عام علوم سے واقف نہ ہو تو ایسی بات کر سکتا ہے جس سے سننے والوں کو اُس سے نفرت پیدا ہو جائے لیکن اگر وہ دیگر علوم سے بھی واقف ہو تو اُس کی بات بہت وزن دار ہو گی ۔ اس وجہ سے ہمارے نوجوانوں کے لئے ہر قسم کے علوم پڑھنے کا انتظام ہونا