خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 21

خطابات شوری جلد اول ۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء ہے کہ پہلے جھگڑے خفیہ رہتے تھے اب لوگ پیش کر دیتے ہیں۔ پھر اس صیغہ کے قیام سے حکم ماننے والے اور انکار کرنے والوں کا پتہ لگتا رہتا ہے۔ میرے نزدیک موجودہ حالات میں ہمارے سلسلہ کے خزانہ پر ایک لاکھ سے زیادہ کا بار ہے۔ پچھلے بجٹ سے یہ اُمید کر سکتے تھے کہ ۲۵ ہزار قرضہ دُور کر سکیں گے اور اس کے یہ معنی تھے کہ چار سال میں اس بوجھ کو دور کر سکتے ہیں ۔ مگر مالی حالت کا لوگوں کو جب پتہ لگا تو وہ مجبور کرنے لگے کہ امانتیں جلد واپس کرو۔ ابھی جو پانچ ماہ کی تنخواہیں ہو گئی ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ قرض کسی بنئے کا نہیں امانتوں کا ہے اور وہ مجبور کر رہے ہیں کہ ادا کرو۔ اس طرح اور بھی بوجھ بڑھتا جاوے گا کہ قرض تو ادا کیا مگر ملازموں کے بل ادا نہ ہو سکے ۔ اب کاغذی حساب سے ایک لاکھ کی بجائے ۷۵۰۰۰ قرض ہے ۔ مگر لوگوں کی تکالیف بڑھ گئی ہیں اور دُکانداروں کے جو دیوالیہ نکل رہے ہیں وہ اور تکالیف کا باعث ہیں۔ میں نے تجویز کی تھی کہ لوگ قرضہ دیں مگر ابھی تک اس کا انتظام نہیں ہوا۔ پھر زمینداروں نے پچھلے سال بہت سستی دکھائی ہے۔ میں نے جلسہ پر بھی کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ ان کے چندے میں اضافہ نہیں ہوا اور زمینداروں نے قرضہ دیا ہی نہیں اور اگر لوگ قرضہ دیں تو اس کا اثر چندہ پر پڑتا ہے مثلاً پچاس ہزار قرض لیں تو ایک تو آمد کم ہو گی اور پھر قرض ادا کرنا ہو گا اس لئے یہ تجویز تجربہ سے معلوم ہوئی ہے کہ درست نہ تھی اس لئے اب یہ تجویز کی جاتی ہے کہ پچاس ہزار خاص چندہ کیا جائے تب یہ بوجھ ہٹ سکتا ہے۔ پھر مفتی صاحب چھ سال سے باہر ہیں اُن کا ایک لڑکا سخت بیماری کی حالت میں ہے، ایک آوارگی کی وجہ سے خراب ہو رہا ہے، ایک معذور ہے۔ بیوی سخت بیماری میں مبتلا ہے اب انکا باہر رکھنا ظلم ہوگا اس لئے پانچ ہزار ان کو بُلانے اور ان کا قائمقام جانے کے لئے ضروری ہے۔ بے شک مشکلات ہیں لیکن کیا قادیان والوں کو جتنی مشکلات ہیں دوسروں کو بھی ایسی ہی ہیں؟ ان سے آدھی بھی باہر کے لوگ اُٹھائیں اور ان کے لئے دُگنی تکلیف رکھ لیں تو بھی یہ مشکلات ایک ماہ میں دُور ہو سکتی ہیں ۔ اصل میں تو ایک لاکھ کی رقم چاہئے مگر موجودہ وقتوں کو دیکھتے ہوئے پچپن ہزار رکھا ہے اور یہ ایسی رقم ہے کہ اگر نہ ملے تو دیوالیہ کی جو حالت ہوتی ہے وہ ہوگی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں مخلصین کی ایسی جماعت ہے کہ اگر انہیں کچھ نہ ملے گا تو بھی کام کرے گی اور کرتے