خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 411

خطابات شوری جلد اول ۴۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس سال کوئی ایسا لڑکا جس کو ہوسٹل سے نکالا گیا ہو داخل ہوسٹل نہیں کیا گیا مگر یہ جواب غلط ہے ایسے لڑ کے داخل ہوئے ہیں ۔ ناظر صاحب کو تحقیقات کر کے بات معلوم کرنی چاہئے تھی کیونکہ ذرا سی غلطی کی وجہ سے بات بہت بڑھ جاتی ہے۔ اگر سب سوالات کے جواب صحیح دے دیئے جائیں اور کسی ایک میں غلطی ہو جائے تو شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ناظر یونہی جواب دے دیتے ہیں ۔ ناظر صاحب تعلیم و تربیت کا فرض تھا کہ ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ سے اس کے متعلق پوچھتے اور پھر جواب دیتے ۔ وظائف کا بقایا اسی طرح ان کے سوال نمبر ۸ کا جواب ناظر صاحب بیت المال نے یہ کہ جن لوگوں کے ذمہ وظائف کا روپیہ و روپیہ واجب الادا ہے مگر باوجود دیا ہے کہ جن ادائیگی کی تحریک کے انہوں نے توجہ نہ کی ان کے نام نہیں بتائے جائیں گے۔ کیوں نہیں بتائیں گے؟ اس کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا۔ وہ کم از کم یہی کہہ دیتے کہ پیشتر اس کے کہ ان کے نام بتا کر ان کی سبکی کریں کوشش کر رہے ہیں کہ ان سے واجب الادا رقوم وصول ہو جائیں۔ اس کی بجائے انہوں نے ایسا جواب دیا ہے کہ گویا لٹھ مار دیا ہے۔ عذر ناظر صاحب تعلیم و تربیت اپنے جواب کے متعلق یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ ہوسٹل کا جواب پڑھ دیا تھا جبکہ اس بارے میں تحقیقات نہ کی تھی ۔ گو اس طرح سپرنٹنڈنٹ پر الزام آتا ہے لیکن چونکہ انچارج وہ ہیں اس لئے وہ بھی الزام سے بری نہیں ہو سکتے ۔ - اسی طرح سوال نمبر ۹ کا جو جواب دیا گیا ہے اس کے متعلق یقینا تو میں نہیں کہہ سکتا مگر درست غالباً یہ درست نہیں ۔ نظارت بیت المال میرے پاس اس کی تفصیل پیش کرے۔ ترقی اسلام کی رقم چوہدری مظفر الدین صاحب کے سوال نمبر ۳ کا جواب بھی نہیں دیا گیا ۔ در حقیقت اس ۔ اس جواب کے دو پہلو ہونے چاہئے تھے۔ ایک یہ کہ ترقی اسلام کے لئے رقم جمع کرنے پر کیا خرچ ہوا جو رقم جمع کرنے پر خرچ ہوتی ہے۔ اسے صیغہ کے خرچ میں شامل نہیں کیا جاتا۔ گویا جو رقم جمع کرنے میں خرچ ہو ۔ اتنی کم اس فنڈ کی رقم سمجھی جاتی ہے۔