خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 402
خطابات شوری جلد اول لده مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء تا اللہ تعالیٰ کی آواز اُس کی زبان پر جاری ہو کر دنیا میں پھیلے ۔ یہ مجلس شوری کی حیثیت ہے۔ اس کے سوائے خلیفہ کے کاموں میں اسے کوئی دخل حاصل نہیں ۔ خلیفہ اور غلطی یہ ہو سکتا ہے کہ ذاتی معاملات میں خلیفہ سے غلطی ہو جائے لیکن ان معاملات میں جن پر جماعت کی روحانی اور جسمانی ترقی کا انحصار ہو، ان میں اگر اس سے غلطی سر سرزد ہو تو اللہ تعالیٰ جماعت اعت کی حفاظت کرتا ہے اور الہام یا کشف سے اُس غلطی پر مطلع کر دیتا ہے۔ صوفیاء کی اصطلاح میں اِسے حفاظت صغری کہا جاتا ہے اور قرآن کریم میں آتا ہے ۔ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ ہے اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی رضا مندی ان کی زبان پر جاری کرتا ہے اور اسے ان کے ذریعہ دُنیا میں قائم کرتا ہے۔ اموال سب خدا کے لئے ہیں یہ خلافت کے متعلق ہمارا عقیدہ ہے اور یہ بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ سوائے ان اموال کے جو وقتی ضروریات کے لئے آتے ہیں باقی سب اموال خدا تعالیٰ کے ہوتے ہیں۔ یہ نہیں کہ خلیفہ کے پاس جو اموال آتے ہیں وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کہ پبلک کے اموال گورنمنٹوں میں جمع ہوتے ہیں۔ زکوۃ اور صدقہ ایسے اموال ہیں جو محض خدا کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ انہیں جو شخص اس لئے دیتا ہے کہ اُس کی مرضی سے خرچ ہوں وہ خدا تعالیٰ کے لئے نہیں دیتا بلکہ اپنے لئے دیتا ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے لئے عشر، زکوۃ اور صدقہ دیتا ہے وہ مال اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے جس کا محافظ رسول اور پھر خلیفہ ہوتا ہے۔ ہاں آگے اس کے لئے یہ رکھا کہ وہ مشورہ لے مگر جس طرح چاہے خرچ کرے اس پر کوئی اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے مالی نداریم علیه و م پر غنیمت کے متعلق انصار میں سے کسی نے اعتراض پر غنیمت کے متعلق اعتراض کیا کہ خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن مال دوسروں کو دے دیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اب انصار کو دنیا میں کسی بدلہ کی اُمید نہیں رکھنی چاہئے ان کی خدمات کا بدلہ قیامت میں ہی ملے گا ہے کا چنانچہ دنیا میں انصار کو حکومت نہ ملی اور دوسرں نے آکر ان پر حکومت کی کیونکہ ان میں سے