خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 393

خطابات شوری جلد اول ۳۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء آہستہ آہستہ ترقی کرتا گیا ہے۔ چونکہ موجودہ خلافت کے ابتداء میں انجمن معتمدین کے ممبروں میں زیادہ تعداد غیر مبائعین کی تھی اور وہ جب چاہتے ہمارے کام میں آکر دخل دے سکتے تھے اس لئے بعض کام جن کا چلانا ضروری تھا مگر ڈر تھا کہ وہ ان میں دخل دیں گے انہیں انجمن ترقی اسلام کے ماتحت جاری کر دیا گیا اور اس طرح ہنگامی کام شروع کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آگیا جب ترقی اسلام اور صدر انجمن کے کاموں کے ملانے میں دقت نہ رہی اور ان کاموں کو ملا کر نظارتیں قائم کی گئیں اور اس طرح نظارتوں کا کام آہستہ آہستہ ترقی کرتا گیا۔ گویا پہلے ایسے حالات میں کام کیا گیا جب کہ کوئی قانون تجویز نہ ہوا تھا، پھر قوانین بنائے گئے مگر وہ مکمل نہ تھے، پھر تجربہ کے بعد ان سے عمدہ قوانین تجویز کئے گئے ۔ جن گریڈوں پر کمیشن نے اعتراض کیا ہے وہ اُسی وقت کے ہیں ۔ اسی طرح مولوی عبد الرحیم صاحب درد کے گریڈ کے متعلق بھی کمیشن کو غلطی لگی ہے۔ انہیں ناظر کا گریڈ نہیں دیا گیا بلکہ ۱۵۰ سے ۲۵۰ تک تنخواہ کا گریڈ ہے وہ دیا گیا اور ضروری نہیں کہ یہ ناظر کا ہی گریڈ ہو۔ اس گریڈ کو بعض لوگ ناظروں کا گریڈ کہہ دیتے ہیں حالانکہ اسی قدر تنخواہیں بعض اور محکموں کے کارکنوں کی بھی مقرر ہیں ۔ درد صاحب کو ناظر نہیں بنا دیا گیا بلکہ وہ گریڈ دیا گیا ہے جو ناظروں کے گریڈ کے برابر ہے اور یہ فرض کر کے دیا گیا ہے کہ ان کی تعلیم اعلیٰ ہے اور ان کی خدمات دیرینہ ہیں ۔ وہ ۱۹۱۸ء سے کام کر رہے ہیں اور ایم ۔ اے ہیں اس وجہ سے اُنہیں اِس گریڈ میں رکھا گیا ہے مگر اس طرح وہ ناظر نہیں بنے بلکہ ناظر کے گریڈ میں رکھے گئے ہیں۔ تقر رسب کمیٹی اس تجویز کے متعلق بھی سب کمیٹی بنائی جاتی ہے اور اس کے لئے میں حسب ذیل اصحاب منتخب کرتا ہوں :- (۱) میاں محمد یوسف صاحب لاہور ۔ (۲) حاجی اله بخش صاحب فیروز پور ۔ (۳) چوہدری عبد الحئی صاحب لاہور ۔ میاں محمد یوسف صاحب پریزیڈنٹ ہوں گے اور پریزیڈنٹ کا کام ہو گا کہ کام کے لئے وقت مقرر کرے۔ سفارش کا دوسراحصہ جدید تقرری کے وقت اخبارات سلسلہ میں خالی آسامی کا اشتہار دیا جائے اور درخواستیں منگائی جائیں اور لائق ترین