خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 365
خطابات شوری جلد اول ۳۶۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء منعقده ۱۸ تا ۲۰ را پریل ۱۹۳۰ء ) پہلا دن مجلس مشاورت منعقدہ ۱۸ تا ۲۰ ر ا پریل ۱۹۳۰ء کے افتتاحی اجلاس کے آغاز میں دُعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا :- دعا وو پیشتر اس کے کہ آج کے اجلاس کو شروع کروں ، میں چاہتا ہوں کہ ہمارے سب دوست مل کر دعا کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے قلوب میں ایسی صفائی اور پاکیزگی پیدا کرے کہ ہم واقعہ میں اسی کے بندے ہو جائیں اور ہمارا کوئی کام اپنے نفس کی بڑائی کے لئے نہ ہو اور نہ اپنے نفس کے مطالبات کے پورا کرنے کے لئے ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے لئے اور اسی کی منشاء کے ماتحت ہو کیونکہ اگر ہم اپنے ارادوں اور کاموں میں خدا تعالیٰ کے نہ ہو جائیں گے تو یقیناً خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ کے مصداق بن جائیں گے اور ہماری کمزوریاں ہی ہمیں دونوں جہان میں برباد کر دیں گی ۔ میں پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ رسمی طور پر دکھاوے کے لئے اور کہنے سننے سے نہیں بلکہ قلبی جوش اور سچے دل سے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کریں کہ وہ ہمیں سچ مچ کے لئے اپنے حقیقی بندے بنا دے اور ہمارے تمام کام اس کی رضا کے ماتحت ہوں ۔“ 66 افتتاحی تقریر تشہد، تعوذ اور سورة ق رسورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے حسب ذیل آیات کی تلاوت فرمائی :- وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا انْفُسَهُمْ جَاءُ وَكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ