خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 343
خطابات شوری جلد اول ۳۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء انجمن کی عمارتیں جو کئی لاکھ روپیہ کی ہیں جوں جوں عرصہ گزرے گا شکست و ریخت کی محتاج ہوں گی مگر ان کی مرمت کا کوئی اندازہ نہیں رکھا گیا ۔ آج سے کچھ عرصہ کے بعد اگر خدانخواستہ کوئی عمارت گر گئی تو اُس کے بنانے کے لئے کہاں سے روپیہ لائیں گے؟ کیوں نہ ابھی سے اس کام کے لئے بھی روپیہ جمع ہوتا رہے۔ چوہدری صاحب نے تجویز پیش کی تھی اس پر بحث بھی ہوئی تھی مگر پھر توجہ نہ کی گئی ۔ تجویز یہ تھی کہ عمارتوں کے کرائے لئے جائیں اور یہ روپیہ جمع ہوتا رہے۔ جب مرمت کی ضرورت پیش آئے اس سے خرچ کیا جائے۔ اگر یہ تجویز مناسب نہیں تو کوئی اور کی جائے۔ بہرحال ایسا فنڈ ہونا ضروری ہے جس سے ضرورت کے وقت کام لیا جا سکے ۔ اسی لئے میں نے کہا تھا وصیت کی جو رقم ۵۰۰ یا اس سے زیادہ کی ہو اُسے ریز روفنڈ میں رکھا جائے اور آمدنی بڑھائی جائے مگر افسوس نظارت نے اس پر عمل نہ کیا۔ وقتی ضرورتوں کو مد نظر رکھا گیا لیکن حقیقی ضرورتوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ فرانس کی ہی حکومت کو دیکھ لو اس وقت تک کھڑی نہ ہوسکی جب تک زور دیکر وہ اپنے خزانہ کو اس حالت میں نہیں لے آئے کہ قرضہ ادا کر دیں ۔ میرے نزدیک یہ ضروری بات ہے کہ چندہ خاص کو ابھی رہنے دینا چاہئے اور اس سال کے لئے تو ضروری اور لازمی ہے۔ ۲۵ فیصدی چندہ خاص رکھتا ہوں ۔ اس سال اندازہ ہے کہ چندہ خاص کی آمد ۴۰ ہزار تک ہوگی ۔ اس سے بجٹ پورا ہو جائے گا اور جو زائد بچے گا ریز روفنڈ میں جمع ہوگا۔ ایک اور نقص بھی بجٹ کے متعلق پایا جاتا ہے جسے سب بجٹ میں اضافہ ہونا چاہئے کمیٹی کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے اور وہ یہ کہ جماعت ہر سال بڑھتی ہے، اس کی آمد میں اضافہ ہوتا ہے مگر اس بات کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ اگر ان سب کو مد نظر رکھا جائے جو جماعت میں داخل ہوئے ہیں اور اُن کی آمد ملائی جائے تو ہر سال بجٹ میں چار پانچ ہزار کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ یہ دیکھا جائے کہ جو لوگ نئے داخل ہوئے ہیں اُن سے چندہ کی وصولی کا انتظام ہے یا نہیں ۔ ایک نیا احمدی ہونا ہمارے لئے ایسا ہی ہے جیسے کسی حکومت کے لئے کوئی ملک فتح ہو، معائنہ کرنے والے اس کا خیال رکھیں اور پھر آمدنی بڑھانے کے اور طریق سوچے جائیں تو نے ہوتے ر ہر سال بجٹ میں زیادتی ہو سکتی ہے ۔ پس میں اعلان کرتا ہوں ایک تو اس سال ۲۵ فیصد