خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 335

خطابات شوری جلد اول ۳۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء دو ” میرے خیال میں تجویز کے مفہوم کو سمجھا نہیں گیا۔ وجہ یہ کہ اس میں اسلامی زمانہ کے عہدے رکھے گئے ہیں جن کے نام اب رائج نہیں ہیں ۔ اس وجہ سے احباب ان کی حقیقت سے واقف نہیں ۔ بات یہ ہے کہ محتسب کا عہدہ اسلامی زمانہ میں ہوتا تھا جس کا فرض یہ ہوتا تھا کہ بد معاشوں اور اوباشوں پر نگاہ رکھے اور دیکھتا رہے وہ کیا شرارتیں اور فتنہ پردازیاں کرتے ہیں۔ اگر کوئی ایسی بات معلوم ہو تو اُس کی اطلاع حکام کو دے۔ محتسب کا کام لڑائی جھگڑا کرنے والوں میں صلح کرانا یا یہ کہ انہیں عدالت میں جانے پر مجبور کرنا نہ تھا اور نہ احتساب میں یہ بات پائی جاتی ہے۔ قاضی کا کام یہ ہوتا تھا کہ اُس کے پاس جو کیس آئے اُسے سنے جیسے آجکل مجسٹریٹوں کا کام ہے۔ ان کا یہ کام نہیں کہ لوگوں کو کیس لانے پر مجبور کریں ۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ جس قسم کے کام کے لئے پنچائت مقرر کرنے کی ضرورت تھی ، کیا وہ محتسب کے سپرد کر دیا جائے؟ دیکھنا یہ ہے کہ محتسب کا عہدہ اور صلح کرانے والے کا اجتماع ہو سکتا ہے یا نہیں؟ ضرورت ت جماعت جماعت کو کو یہ یہ ہے ہے کہ کہ قا قاضی مقرر ہیں ، محتسب محتسب ؟ بھی ہے۔ محتسب کا کام یہ ہے کہ دیکھے کوئی شرارت تو نہیں کر رہا یا کوئی آوارہ اور بدمعاش تو نہیں آ گیا۔ اُس کا یہ کام نہیں کہ لوگوں کو مجبور کر کے قضاء میں لے جائے یا مقدمات کے فیصلے کرائے گو یہاں ایسا بھی کر لیا جاتا ہے۔ مگر محتسب کا یہ اصل کام نہیں ہے۔ اس کا کام تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنا ہے۔ اس وقت جو تکلیف ہے وہ یہ ہے کہ بعض دوست آپس میں لڑ پڑتے ہیں مگر معاملہ قضاء میں نہیں لے جاتے ہیں ، خود جتھے بنانا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح بات بہت بڑھ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایسا انتظام ہو جو لڑنے والوں سے کہے یا تو صلح کرو یا پھر معاملہ قضاء میں لے جاؤ۔ اس کے لئے پنچائتوں کا سسٹم رکھا گیا تھا جو رائج تھا کہ صلح کرایا کرتے تھے یا فیصلہ کرتے تھے ۔ ہم نے فیصلہ کو ان سے علیحدہ کر دیا اور یہ رکھا کہ اگر صلح نہ کر اسکیں تو معاملہ کو قضاء میں بھیج دیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ احتساب کے محکمہ کے سپرد یہ کام کرنا آئندہ یا اب خطرہ کا باعث تو نہ ہوگا ؟ اگر نہ ہوگا تو آیا اب اس کی ضرورت ہے یا نہیں؟ باہر سے آنے والے اصحاب اِس کے متعلق اپنی رائے سُنا سکیں تو سُنا دیں ۔“ ناظر صاحب امور عامہ کی طرف سے وضاحت کے بعد حضور نے فرمایا :-