خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 324
خطابات شوری جلد اول ۳۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء فیصلوں کے خلاف اثر انداز ہوں گی لیکن اگر ہم میں خشیت اللہ پائی جائے اور پھر کوئی غلطی ہو جائے تو اس غلطی کا ازالہ خود خدا تعالیٰ کر دے گا اور خود ہمیں اُس راہ پر چلائے گا جو ہمارے لئے مفید ہو گی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فیصلہ شاید وہ لوگ جو الفاظ کے ایسے معنی لینے کے عادی ہیں جو الفاظ کہنے والے موجب ہو کے مد نظر نہیں ہوتے وہ یہ کہیں یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ غلط فیصلہ تو فائدہ کا جائے جو خشیت اللہ کو دل میں جگہ دیتے ہوئے کیا گیا ہو اور وہ فیصلہ جو خشیت اللہ سے دور ہو کر کیا گیا ہو وہ صحیح ہونے کے باوجود معمر ہو۔ میں ایسے لوگوں کی توجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فیصلہ کی طرف مبذول کراتا ۔ مبذول کراتا ہوں ۔ آپ گو ر و یا دکھایا گیا کہ آپ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔ اس پر آپ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کسی عزت اور بڑائی کے لئے نہیں ، نہ اس لئے کہ مکہ والوں پر اپنا رعب جما ئیں مکہ کی طرف چل پڑے۔ یہ اجتہادی غلطی تھی ۔ خدا تعالیٰ کا یہ یہ منشاء منشاء نہ نہ تھا تھا کہ اُسی سال طواف ہو مگر رسول رسول کے کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدا کی رضا اور اُس کی منشاء کو پورا کرنے کے لئے یہ فیصلہ کیا کہ اسی سال طواف کیا جائے ۔ یہ آپ کو اجتہادی غلطی لگی لیکن خدا تعالیٰ نے اسی کے متعلق فرمایا۔ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مبينا " یہ غلطی ہوئی ہے لیکن چونکہ ہماری محبت اور ہماری رضا کے حصول کے لئے کی گئی ہے اس لئے اسی کو ہم نے بہت بڑی فتح کا پیش خیمہ بنا دیا۔ اس کے مقابلہ میں ایک اور فیصلہ ہوا جو صحیح فیصلہ تھا لیکن چونکہ اس کے کرنے کے وقت خشیت اللہ باقی نہ رہ گئی تھی ، اس لئے وہ نہایت خطرناک ثابت ہوا۔ وہ فیصلہ بعض صحابہ کا تھا جنہیں اُحد کی جنگ میں ایک مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے کر کے فرمایا تھا کہ چاہے ہمیں فتح ہو یا شکست تم یہاں سے نہ ہٹنا ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح ہوئی اور دشمن بھاگنے پر مجبور ہوا تو اُس وقت ان لوگوں کا یہ بالکل صحیح فیصلہ تھا کہ وہ بھی آگے بڑھتے اور بھاگتے ہوئے دشمن پر حملہ کرتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے چونکہ یہ نکل چکا تھا کہ خواہ فتح ہو یا شکست ، تم اس جگہ سے نہ ہٹنا اس لئے خشیت اللہ چاہتی تھی کہ وہ دشمن کے بھاگنے پر بھی وہاں سے نہ چلتے ۔ خواہ وہ یہ دیکھتے