خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 292

خطابات شوری جلد اول ۲۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء طرح مسلمانوں کو بہت سا سیاسی نقصان پہنچ رہا ہے جس کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ پھر تبلیغ کے لحاظ سے بھی عورتوں کی تعلیم نہایت ضروری ہے۔ ہندو اور عیسائی عورتیں تعلیم میں بہت بڑھ رہی ہیں۔ ہماری عورتیں تعلیم حاصل کر کے نہ صرف ان کے حملوں سے بچ سکتی ہیں بلکہ ان کو تبلیغ بھی کر سکتی ہیں ۔ مگر جہاں میں اس تجویز کو منظور کرتا ہوں وہاں اس بات کو قطعی طور پر رڈ کرتا ہوں کہ حضرت اماں جان ) کی طرف سے اس چندہ کے لئے اپیل ہو اور عورتیں چندہ دیں۔ یہ اپیل میری طرف سے ہو اور مرد چندہ دیں۔ اگر یہ چندہ عورتوں پر رکھا گیا تو یہ بات آئندہ ہماری ترقی میں حائل ہو جائے گی اور ہمارے گھروں کا امن برباد کر دے گی اور یہ احساس پیدا ہوگا کہ مرد عورتوں کے لئے کچھ نہیں کر رہے اور نہ کرنا رہے اور نہ کرنا چاہتے ہیں ۔ پس اس بات کو میں رڈ کرتا ہوں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ہی اس کام کے لئے چندہ دیں اور عورتوں کو بتا دیں کہ ہم اُن کی تعلیم و تربیت کے لئے انتہائی کوشش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہمیں اس طور پر اس کام کو پیش کرنا چاہئے کہ صرف مردوں کے ہی چندہ سے یہ کام ہو اور یہ یادگار رہے۔ ورنہ اگر عورتوں کے چندہ سے کام ہو تو یہ سخت خطرناک ہوگا ۔ اس وقت ہر قوم میں ہ وہ عیسائی ہو یا ہندو یا مسلمان یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ مرد عورتوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ میں اس قسم کا احساس اپنی جماعت کی عورتوں میں پیدا کرنا پسند نہیں کرتا۔ ہم خود اپنے چندہ سے عورتوں کی تعلیم کا انتظام کریں گے اور اس کے لئے ایک پیسہ بھی عورتوں سے نہ مانگیں گے۔ اس لئے میں خود اعلان کروں گا اور جو دوست حصہ لینا چاہیں گے وہ لیں گے اور امید ۔ گے اور امید ہے کہ یہ کام جلد ہو جائے گا۔“ خواہ انسپکٹر تعلیم و تربیت کا تقرر سب کمیٹی تعلیم و تربیت نے ایک انسپکر تعلیم و تربیت مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ۔ اس تجویز کے بارہ میں بعض احباب کی بحث کے بعد حضور نے انسپکٹر کی ضرورت اور اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:- کے بعد نے انسپکٹر اور اس تجویز کے متعلق میری رائے پہلے یہی تھی کہ انسپکٹر کی ضرورت نہیں ہے۔ مبلغ اور محصل یہ کام کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ چنانچہ میں نے نوٹ اس تجویز کے متعلق جو لکھا وہ