خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 280
خطابات شوری جلد اول ۲۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء کو لکھا کہ وہ حیفا میں آجائیں تاکہ وہاں سے شام کے تبلیغی حالات بھی معلوم کر سکیں ۔ پھر غور کر لیا جائے گا کہ انھیں وہیں رکھا جائے یا کسی اور جگہ۔ یہ حالات تھے جن کا ذکر کرنا ضروری تھا۔ انھوں نے صرف مولوی جلال الدین صاحب کے تار کا ذکر کیا جس سے لوگوں کو اصل حالات سے واقفیت نہ ہو سکی تھی ۔ میرے نزدیک ناظر اعلیٰ کی رپورٹ میں ایک طرزِ گفتگو نظارت اعلیٰ کی رپورٹ ہو یا اسے لے کر کام کرنے والوں کے لئے تھا۔ کو وہ یہ قتیں اور مشکلات ہیں مگر ان کی رپورٹ ان کی رپورٹ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا دفاتر دفاتر بند پڑے رہے ہیں اور ان میں کچھ کام نہیں ہوا یا بہت تھوڑا کام ہوا حالانکہ جو رپورٹیں پڑھی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت کام ہوا ہے بلکہ غیر بھی جانتے ہیں کہ اس سال زیادہ کام ہوا ہے مگر ناظر صاحب اعلیٰ کی رپورٹ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا دفاتر کو تالے لگے رہے ہیں۔ کسی بات کو بیان کرنے کے لئے جو طریق اختیار کیا جائے اُس کا بھی اثر ہوتا ہے۔ جس وقت خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اول کی وفات پر اختلاف ہوا تو اخبار پیغام صلح میں عجیب و غریب عنوان کے ماتحت ایک مضمون شائع ہوا جس میں لکھا کہ میاں محمود احمد رات کو اُٹھ کر لوگوں کے پاس آئے اور انھیں کہا دُعائیں کرو، تہجد پڑھو اور دُعا کرو کہ خدا تعالی صحیح رستہ پر چلائے ۔ اس پر لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ خبر کیا لکھی ہے صرف عنوان سے ہی متاثر ہو کر لوگوں کے خطوط آئے کہ کیا واقعی سازش ہوئی ہے؟ تو بات کے بیان کرنے کے طریق سے بھی لوگوں پر اثر پڑتا ہے۔ جب یہ بتایا گیا کہ میں فلاں وجہ سے معذور رہا، فلاں بیمار رہا، فلاں نے یہ کام کیا ، اس لئے اپنے صیغہ کے کام کے لئے وقت نہ نکال سکا تو اس سے لوگ یہی سمجھیں گے کہ گویا دفاتر میں تالے لگے رہے اور کوئی کام نہ ہوا۔ اونچی آواز سے بولنا چاہیے پھر میرے نزدیک ناظروں کو یہ بات بھی مدنظر رکھنی سے سے چاہئے کہ اونچی آواز سے بولیں ۔ دوست دُور دُور سے آئے ہیں۔ میں نے انھیں کہا تھا کہ آواز نہ آئے تو بھی بیٹھے رہیں، اس لئے بیٹھے رہے۔ مگر ایک دو نظارتوں کی رپورٹیں اس طرح پڑھی گئیں کہ دوست اُن کے وقت ثواب کے لئے بیٹھے رہے ورنہ وہ کچھ نہ سُن سکے۔ مگر جہاں میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ بیٹھے