خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 270

خطابات شوری جلد اول ۲۷۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء ہے کہ وہ کچھ نہیں کرتا نہ کہ وہ جو صرف زبان سے کہتا ہے اور دل میں سمجھتا ہے میں یہ کر سکتا ہوں، وہ کر سکتا ہوں ۔ جب ہم مخلی بالطبع ہو کر سوچیں کہ ہم میں کوئی لیاقت اور قابلیت ہے یا نہیں اور اُس وقت دل میں کہے کہ کوئی نہیں ، تب وہ برکات حاصل ہوں گی جن کی وجہ سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ عظیم الشان نتائج تک پہنچنے کی توفیق پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں اس بات کے لئے دعا کرنے کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح اور عالیشان نتائج پر پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دُعا کرنے سے پہلے میں نے یہ نہیں کہا تھا مگر دُعا کرتے وقت اس بات کو دُعا میں شامل کر لیا تھا کہ خدا تعالیٰ ہمیں عظیم الشان نتائج تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ پس ہمیں یہ دُعا کرنی چاہئے کہ ہماری نیتیں درست ہوں ، ہم صحیح نتائج پر پہنچیں اور وہ عظیم الشان نتائج ہوں ۔ ہم اُن ہمتوں کو لے کر اُٹھیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص طور پر ملتی ہیں ۔ پھر ان نتائج کے مطابق زندگی بسر کریں اور لوگوں سے زندگی بسر کرائیں ۔ مگر یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ یہ دُعا ئیں تب قبول ہوں گی جب اللہ تعالیٰ کے آگے عاجزی سے اپنے آپ کو ڈال دیں گے۔ جو یہ نہیں سمجھتا یا اپنے اعمال سے یہ ظاہر نہیں کرتا کہ اُسے خدا تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے، اُس کی دُعا قبول نہیں ہوتی جیسا کہ میں نے آج کے خطبہ میں بتایا ہے۔ ہمارے اجتماع کی غرض ہمارا کام معمولی نہیں اور آج ہم اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ اُس مقصد کے قریب ہونے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہمارا مقرر کیا ہے اور چونکہ ہم سب باتوں پر یک لخت اور ایک وقت میں غور نہیں کر سکتے اس لئے یہ صورت اختیار کی گئی ہے کہ بعض چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو لے لیں اور سال بھر ان کے متعلق کام کریں ۔ پس ہمارے لئے نہایت ضروری ہے کہ خشیت اللہ لے کر ان باتوں پر غور کریں اور نہایت ضروری ہے کہ ان ارادوں اور تجویزوں کے مطابق زندگی بسر کریں ۔