خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 264

خطابات شوری جلد اول ۲۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء انجام بخیر دنیا میں سب سے بڑی چیز انسان کے لئے انجام بخیر ہونا ہے۔ درمیانی ترقیاں اور کامیابیاں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں ۔ بسا اوقات دیکھا جاتا ہے کہ ایک انسان نیکی میں بہت ترقی کر جاتا ہے لیکن ایک وقت اُس پر ایسا آتا ہے کہ وہ نیکی سے بالکل محروم ہو جاتا ہے جس طرح کہتے ہیں بال اگر چکنائی میں سے گزار کر نکال لیا جائے تو چکنائی سے خالی نکل آتا ہے اسی طرح وہ تقویٰ اور نیکی سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان غلط راستہ پر چل رہا ہوتا ہے مگر اُس کے لئے خدا تعالیٰ ایسا وقت لے آتا ہے کہ اسے ہدایت نصیب ہو جاتی ہے۔ خدا تعالی کی گرفت اور استغناء پس انسان کو ہر وقت اور ہر حالت میں خدا تعالیٰ کی گرفت اور اُس کے استغناء سے ڈرتے رہنا چاہئے مگر میں دیکھتا ہوں بہت لوگ جو بظاہر نیک اور متقی ہوتے ہیں، اپنی نیکی کے گھمنڈ میں خدا تعالیٰ کے استغناء کو مد نظر نہیں رکھتے اس لئے کئی دفعہ سخت ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ وہ غلطی میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو مامور سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ جتنا کوئی انسان خدا تعالیٰ کے قریب ہو ا تنی ہی زیادہ اُس میں خشیت اللہ ہونی چاہئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے انسان کو ہم دیکھتے ہیں ذرا با دل گر جتایا ذرا آندھی آتی تو آپ گھبرا جاتے ۔ ایک دفعہ کسی نے آپ سے سوال کیا ، کیا بات ہے کہ آپ ایسے موقع پر گھبرا جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا مجھے خیال آتا ، خیال آتا ہے کہ کئی ایسی قو میں گزری ہیں جن پر بظاہر بادل آئے مگر وہ ان کے لئے خدا کا عذاب تھا۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں ڈرتا ہوں کہ اس قسم کا بادل نہ ہو ۔ مگر غور کرو ہم میں سے کتنے ہیں جو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھوڑ کر بڑی سے بڑی باتوں سے یہ سبق حاصل کرتے ہیں۔ ذرا کسی کو اپنے متعلق نیکی اور تقویٰ حاصل ہونے کا خیال ہو تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں مامور ہوں ۔ اگر ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کو اپنے لئے نازل ہوتا دیکھ کر سمجھتے کہ اس کی وجہ سے اُن کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اور وہ پہلے کی نسبت زیادہ خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ بنائے گئے ہیں تو وہ کبھی ٹھو کر نہ کھاتے اور نہ گمراہی کے گڑھے میں گرتے ۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی صحیح راستہ پر جا رہا ہو مگر خدا تعالیٰ اُسے سیدھے رستہ سے ہٹا کر گمراہ کر دے تا وقتیکہ وہ خدا تعالیٰ کے استغناء کو بھلا کر اپنے لئے آپ گمراہی