خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 242
خطابات شوری جلد اول ۲۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء بات کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل اور شریعت کا حکم ثابت کر دیا جائے تو وہ ضرور اس پر عمل کریں گے۔ ایک دفعہ ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کیا داڑھی رکھنے میں ایمان ہے؟ میں نے کہا نہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں ایمان ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل تھا کہ آپ داڑھی رکھتے تھے۔ تو اس بارے میں ٹریکٹ شائع کرنے چاہئیں ۔ لیکن اس وقت سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں جب کہ کوئی احمدی داڑھی نہ رکھے، کیا کرنا چاہئے؟ سب کمیٹی نے جو تجویز پیش کی ہے اس کے متعلق جو دوست مخالف یا موافق بولنا چاہیں وہ کھڑے ہو جا ہو جائیں ۔ ایک شخص کے سوال پر کہ داڑھی کتنی لمبی ہونی چاہئے؟ حضور نے فرمایا :- دو یہ چونکہ شرعی مسئلہ ہے اس لئے سب کمیٹی کا حق نہیں کہ کوئی حد مقرر کرے۔ اصل بات یہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک قانون بتایا ہے اور وہ یہ کہ سنتِ رسول سے مراد وہ اعمال ہیں جو آپ نے خود کئے اور دوسروں کو ان کے کرنے کی تحریک فرمائی ۔ پس سنت کے یہ معنی نہیں کہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا وہ سنت ہے بلکہ یہ ہے کہ جو کام آپ نے خود کیا اور جس کے کرنے کی دوسروں کو تحریک کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق یہ تو ثابت ہے کہ آپ نے داڑھی رکھی اور یہ بھی ثابت ہے کہ دوسروں سے کہا رکھو ۔ مگر یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا اتنی لمبی داڑھی رکھو ۔ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض صحابہ کی داڑھی چھوٹی تھی ۔ چنانچہ حضرت علی کی چھوٹی داڑھی ہی تھی اور مؤرخوں کی رائے ہے کہ عام طور پر صحابہ کی چھوٹی داڑھی تھی۔ مظہر جانِ جاناں کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی داڑھی مختصر تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق تو یاد نہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق معلوم ہے کہ آپ تئین کراتے اور داڑھی کے بال بھی تر شواتے تھے ۔ تھے۔ میں بھی ہمیشہ اسی اسی طرح کراتا ہوں ۔ اس وقت میری جتنی داڑھی ہے اگر میں اِسے بڑھنے دوں تو اور زیادہ لمبی ہو جائے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہفتہ وار داڑھی کے بال کتراتے جو کئی آدمیوں نے بطور تبرک رکھے ہوئے ہیں۔ میرے پاس بھی ایک شیشی میں تھے جو کسی نے تبرک سمجھ