خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 230
خطابات شوری جلد اول ۲۳۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کوئی لذت محسوس نہ کی ۔ جن امور کا بیان کرنا ضروری تھا وہ نظر انداز کر دیئے گئے ۔ مثلاً انہوں نے بعض مثالیں اپنے کام کی ایسی بیان کیں کہ جن کے سننے سے جماعت کو تسلی نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ یہ کہ فلاں جگہ سے رپورٹ آئی کہ کچھ تکلیف ہے، اُس کے لئے کچھ کر دیا گیا۔ اس سے کسی کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ کیا تکلیف تھی اور اُسے دُور کرنے کے لئے کیا کیا گیا ۔ کوئی خاص مظلومیت کا واقعہ ہوتا جو بیان کیا جاتا اور اس کے لئے جو کوشش کی گئی اُس کا ذکر ہوتا تو یہ دلچسپی سے سنا جاتا۔ بے تفصیل بیان کرنے سے بجائے اس کے کہ فائدہ ہو یہ اثر ہو سکتا ہے کہ کوئی مظالم ہی نہیں ہو رہے۔ پھر بحیثیت ناظر امور عامہ اُنہیں چاہئے تھا کہ ہماری جماعت میں جس قسم کے اختلاف ہوتے ہیں ان کے مجموعے پر نظر ڈال کر یہ معلوم کرتے کہ کسی قسم کی تکالیف لوگوں کو پیش آ رہی ہیں اور ان سے یہ اندازہ لگاتے کہ جماعت کا رحجان کدھر جا رہا ہے۔ پھر اس بات پر روشنی ڈالتے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ آیا تربیت میں نقص ہے یا ایسے حصوں کے لوگ جماعت میں داخل ہوتے ہیں جن کی تمدنی اور معاشرتی حالت کی وجہ سے ان میں نقائص پائے جاتے ہیں۔ پھر بتاتے کہ ان کی اصلاح میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں ۔ اس بارے میں جماعت کیا مدد کر سکتی ہے۔ اسی طرح بے کاروں کے متعلق یہ روشنی ڈالتے کہ ہماری جماعت میں نسبتاً زیادہ ہیں یا کم ، آجکل تمام جماعتوں میں بے کاری پھیلی ہوئی ہے اس لئے دیکھنا یہ ہے کہ ہماری جماعت میں نسبتاً کم ہے یا زیادہ ۔ اگر کم ہے تو یہ خوشی کی بات ہے۔ اگر دوسروں جتنی ہی ہے تو نہ خوشی ہوسکتی ہے نہ غم ۔ اور اگر زیادہ ہے تو یہ غم اور فکر کا مقام ہے کہ ہم اس پہلو سے گر رہے ہیں ۔ پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ کون سے طبقہ میں بیکاری زیادہ ہے۔ اگر تعلیم یافتہ طبقہ میں پائی جاتی ہے تو بتایا جاتا کہ سے طبقہ ہے۔ اگر ہے کہ جماعت کے لوگوں کو ضروری پیشوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے ۔ اگر پیشہ وروں میں بے کاری زیادہ ہے تو معلوم ہوتا کہ دوسروں سے تعلقات میں جو کشیدگی ہے اس کی وجہ سے پیشہ میں ترقی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح یہ بتایا جاتا کہ پیشہ وروں کی جماعت کس طرح مدد کر سکتی ہے اور بتایا جاتا کہ فلاں فلاں پیشہ ور اتنے بے کار ہیں۔ اگر اس قسم کی لسٹ سنائی جاتی تو ممکن تھا کہ جماعتیں بتا سکتیں کہ ایک نجار یا ایک آہنگر یا ایک معمار کا کام ہمارے ہاں چل سکتا ہے۔ اس طرح بے کاروں کی مدد ہو سکتی ۔ ۔