خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 216
خطابات شوری جلد اول کی خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں ۔ ۲۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء نا قابل قبول قربانیاں یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے حضور قبول نہیں کی جاتیں کیونکہ انہوں نے اپنے نفس کو مارا نہیں ہوتا ۔ حدیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو جنگ کے موقع پر دیکھا کہ وہ ایسے ایسے خطرناک موقع پر جاتا ہے کہ سب لوگ اُس کی طرف دیکھ کر واہ واہ کہہ اُٹھتے ہیں لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر فرمایا کہ اگر کسی نے دوزخی کو چلتے پھرتے دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لے سے صحابہ میں یہ سن کر ایک جنبش اور حرکت پیدا ہوئی ۔ وہ حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے کہ وہ شخص جو سب سے زیادہ جنت کا مستحق ہونا چاہئے اُس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ دوزخی ہے۔ بعض کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات یو نہی کہہ دی ہے اور بعض نے اس کا اظہار بھی کر دیا۔ اس پر ایک صحابی جو بہت اخلاص رکھتے تھے اُنہوں نے کہا میں اس شخص کا پیچھا نہ چھوڑوں گا جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لوں ۔ چنانچہ وہ شخص اسی جنگ میں زخمی ہؤا ہوا اور جب اسے سخت تکلیف ہوئی تو اُس نے نیزہ گاڑ کر اُس پر اپنے آپ کو گرایا اور اس طرح خود کشی کر لی ۔ اُس وقت اس نے کہا میں ان لوگوں سے اسلام کے لئے نہ لڑا تھا بلکہ ان سے پرانی عداوت تھی اس لئے لڑا تھا۔ چونکہ خودکشی کرنے والا خدا تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے اس لئے خدا کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس طرح معلوم ہو گیا کہ فی الواقعہ وہ شخص دوزخی تھا ۔ اُس کا انجام دیکھ کر صحابی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور آ کر کہا يَا رَسُولَ الله ! آپ خدا کے سچے رسول ہیں، میں نے اس شخص کا اس طرح انجام دیکھا۔ اس پر آپ نے فرمایا میں خدا کا رسول ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ خدا ایک ہے۔ اب دیکھو ایک شخص با وجود مسلمانوں کے ساتھ مل کر دشمنوں سے لڑتا ہے اور ایسے ایسے مقام پر حملہ کرتا ہے جہاں عام مسلمان بھی نہ کرتے مگر اُس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ دوزخ میں جاتا ہے اس لئے کہ اس نے جان کی قربانی تو کی لیکن ”میں“ کی قربانی نہ کی تھی ۔ اُس نے جان کی قربانی اپنی انانیت کے لئے کی تھی ۔