خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 191

خطابات شوری جلد اول ۱۹۱ بھائی کا کھوج معلوم کرادے اور اسے صحیح و سلامت ہم سے ملائے ۔ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء اس دفعہ میں نے مشاورت کے موقع پر ایک مختصر سی نمائش کا بھی انتظام کیا ہے۔ اس میں مبلغین کے تازہ خطوط اور رپورٹیں بھی رکھی گئی ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کس طرح کام ہو رہا ہے۔ مثلاً میں بڑ کی تازہ رپورٹ ہے کہ کس طرح وہ با قاعدہ چندہ دیتی ہیں اور آمد و خرچ کا گوشوارہ تیار کرتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے مبلغین کی بھی رپورٹیں ہیں ۔ خصوصاً فیروز پور کے تبلیغی سیکرٹری صاحب کی رپورٹ بہت مکمل اور اعلیٰ ہے جو بطور نمونہ رکھی گئی ہے۔ مسجد لنڈن کا فوٹو بھی ہے۔ اسی طرح میں قرآن کریم کا جو ترجمہ کر رہا ہوں اُس کا ایک حصہ بھی رکھوایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شاہ رفیع الدین صاحب، مولوی اشرف علی صاحب تھانوی ، مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی، فتح محمد صاحب جالندھری، مرزا حیرت صاحب دہلوی اور مولوی محمد علی صاحب کے ترجمے بھی رکھ دیئے گئے ہیں۔ جلسہ کے بعد ۱۵ دن تک ترجمہ کا کام مجھ سے نہ ہو سکا کیونکہ لوگ ملنے کے لئے آتے رہے۔ پھر ۱۵ دن کے قریب میں بیمار رہا، اس لئے ڈیڑھ ماہ کے قریب کام ہوا اور اب تک سورۃ آل عمران ختم ہو چکی ہے اور سورہ نساء شروع ہونے والی ہے۔ باقی نوٹ تو تیار شدہ ہیں ۔ ترجمہ میں بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اس میں میں نے دو باتوں کو مد نظر رکھا ہے۔ ایک تو یہ کہ ترجمہ با محاورہ ہو تا کہ لوگ مطلب سمجھ سکیں ۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے الفاظ نہ چھوڑ دیئے جائیں مثلا انقَلَبْتُمْ عَلَى اعقابکم کا الفاظ کے لحاظ سے یہ ترجمہ ہو گا کہ ایڑیوں کے بل پھر گئے مگر اُردو کا یہ کوئی محاورہ نہیں ۔ ایسے موقع پر اسی کو اختیار کر لیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم کے محاورہ کا زیادہ احترام کیا گیا ہے اور لوگ اسے سمجھنے لگ گئے ہیں ۔ اسی طرح قرآن میں جہاں مصدر استعمال ہوئی ہے کوشش کی گئی ہے کہ ترجمہ میں مصدر ہی استعمال ہو اور مفرد کا ترجمہ مفرد لفظ میں ہو ۔ اگر کوئی ان باتوں کو مد نظر رکھ کر دیکھے اور ترجمہ کی مشکلات سے نا واقف نہ ہو تو پچھلے تراجم اِس ترجمہ کے مقابلہ میں جو میں کر رہا ہوں ۔ غلط معلوم ہوں گے میں نے دوسرے تراجم مقابلہ کرنے کے لئے بھی رکھوا دیئے ہیں ۔ پھر احباب مشورہ دیں کہ ترجمہ کسی رنگ میں چھپے۔ نوٹ حاشیہ پر ہوں یا نیچے یا دوسرے صفحہ پر، اس کے متعلق کیا طریق اختیار کیا جائے؟“